سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 664 of 900

سیر روحانی — Page 664

۶۶۴ زیارت کرتے رہیں۔وَ مَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَلَمِینَ اور ساتویں جا گیر یہ ہوگی کہ جو شخص اس سے منہ موڑے گا ہم اس سے تعلق نہیں رکھیں گے۔دیکھو! یہ سات جاگیریں ملتی ہیں کہ (۱) اُس مقام کو ہمیشہ کے لئے برکت والا بنایا جاتا ہے۔(۲) یہ مقام دین اور تقویٰ میں لوگوں کی راہنمائی کا موجب ہوگا۔(۳) اس مقام سے نشانات الہیہ ظاہر ہوتے رہیں گے۔(۴) جو لوگ اس سے تعلق رکھیں گے وہ ابراہیمی در جے حاصل کریں گے۔(۵) جو شخص اس کے اندر داخل ہو گا اُسے امن حاصل ہو جائے گا۔(۶) اور پھر یہ کہ اس کی طرف لوگوں کو ڈور ڈور سے کھینچ کر لایا جائے گا تا کہ وہ اس کی زیارت کریں۔(۷) اور جو اس سے منہ موڑے گا خدا تعالیٰ اُس سے منہ موڑ لے گا۔یعنی اس کے مخالف بھی ہمیشہ رہیں گے لیکن اُن کا تعلق اللہ تعالیٰ سے نہیں ہوگا۔ہر زمانہ میں یہ مقدس جاگیر دشمن کے حملہ سے محفوظ رہی اب دیکھو کس طرح ہر زمانہ میں یہ نشان پورا ہوتا رہا۔دنیا کی جاگیروں کے لینے والے تو بڑے بڑے جتھے رکھتے تھے مگر پھر بھی وہ ناکام رہے اور ان کی جاگیریں ضبط ہو گئیں لیکن یہاں کوئی پوچھنے والا ہی نہیں تھا معمولی حیثیت تھی کوئی طاقت نہیں ، کوئی قوت نہیں ، کوئی سامان نہیں صرف یہ اعلان ہے کہ یہ شاہی جاگیر ہے لیکن پھر بھی وہ جا گیر محفوظ رہی۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آج سے چودہ سو سال پہلے یمن کے گورنر کا بیت اللہ پر حملہ یمن میں ایک گورنر تھا۔اُس نے ایک گر جا بنایا اور کہا کہ میں اس کو عرب کے سارے لوگوں کے لئے عزت کی جگہ بناؤں گا مگر وہ آباد نہ ہوا۔آخر اُس نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ گر جا آباد کیوں نہیں ہوتا ؟ انہوں نے کہا اصل بات یہ ہے کہ عرب میں ایک پرانا مکان ہے بیت اللہ یا خانہ کعبہ اُس کو کہتے ہیں اُس کی سارے عرب عزت کرتے ہیں جب تک وہ نہیں ٹوٹے گا لوگوں نے اس کی طرف توجہ نہیں کرنی پہلے اُس کو تو ڑ لو پھر کوئی تجویز ہو گی۔اُس نے کہا بہت اچھا۔چنانچہ اُس نے لشکر لیا اور چل پڑا۔چلتے چلتے طائف کے مقام پر پہنچے۔وہاں کے لوگوں کی مکہ والوں سے مخالفت تھی کیونکہ وہ مکہ کے مقابلہ