سیر روحانی — Page 628
۶۲۸ ہیں ، بڑے نیچے ہیں ، بڑے راستباز ہیں، وہ اتنے محتاط ہیں کہ صرف اپنے حافظہ پر بات نہیں رکھتے جو بڑا مکمل حافظہ ہے بلکہ وہ ساتھ ساتھ لکھتے بھی چلے جاتے ہیں گویا اس احتیاط کو وہ دوگنی کر لیتے ہیں۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ دُنیوی ڈائری نویس کئی قسم دنیا میں ڈائریاں لکھنے کا غلط طریق کی غلطیاں کر جاتے ہیں کیونکہ وہ ہر وقت ساتھ نہیں رہتے۔مثلا تمام گورنمنٹیں پولیس مقرر کرتی ہیں مگر جتنی بڑی سے بڑی منظم گورنمنٹیں ہیں وہ اتنے ڈائری نویس مقرر نہیں کر سکتیں کہ ہر آدمی کے ساتھ ساتھ ڈائری نویس پھرے۔اگر ملک کے سپاہیوں کی تعداد دیکھی جائے اور ادھر آدمیوں کی تعداد دیکھی جائے تو ہمیں نظر آئے گا کہ اگر ایک کروڑ آدمی ہے تو شاید پولیس تین چار ہزار ہو اور وہ تین چار ہزار بھی سارے ڈائری نویس ہی نہیں ہونگے بلکہ اُن میں سے اکثر وہ ہونگے جن کا کوئی اور کام مقرر ہوگا۔مثلاً یہ کہ رستوں کی حفاظت کرنی ہے یا انہیں کسی جگہ پر ریزرور کھا ہوا ہو گا کوئی جھگڑا یا فساد ہوا تو وہ وہاں پہنچ جاتے ہیں۔سٹینو اور ڈائریاں لکھنے والے میرے خیال میں سارے صوبہ میں جس کی دو تین کروڑ آبادی ہو دو تین سو ہی نکلیں گے۔اب اگر دو تین کروڑ آبادی میں ایک کروڑ پر سو آدمی ہے یا فرض کر لو ایک کروڑ پر ہزار بھی آدمی ہے تب بھی دس ہزار آدمیوں پر ایک ہوا اور دس ہزار آدمی پر جو ایک شخص مقرر ہے وہ ہر ایک کا نامہ اعمال نہیں لکھ سکتا نہ وہ ہر ایک آدمی کے عمل کی تحقیقات کر سکتا ہے۔لازمی بات ہے کہ کچھ لوگ تو یونہی ان کی نظروں سے چُھپ جائیں گے اور جو لوگ اُن کی نظروں کے نیچے آ ئیں گے اُن سب کے متعلق بھی وہ صحیح تحقیقات نہیں کر سکتے۔کچھ کے متعلق تو وہ صحیح تحقیقات کریں گے اور کچھ کے متعلق وہ سنی سنائی باتوں پر ہی کفایت کر لیں گے۔اعتبار ہوگا کہ فلاں آدمی بڑا سچا ہے ، اُس نے کہا ہے تو ٹھیک ہی بات ہوگی اس لئے وہ مجبور ہوتے ہیں کہ جو بات اُن تک پہنچے اُس پر اعتبار کر لیں۔مختلف حکومتوں کا طریق کار دنیا کی تمام گورنمنٹوں میں امریکہ میں بھی ، انگلینڈ میں بھی ، یورپ میں بھی، ایشیا میں بھی غرض سارے ملکوں میں دیکھا جاتا ہے اُن کی کتابوں کو ہم پڑھتے ہیں تو اُن سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اُن کا عام قاعدہ یہ ہوتا ہے کہ کسی گاؤں میں گئے اور پوچھا کہ یہاں کون کون آدمی رہتے ہیں؟ کوئی نمبر دار مل گیا تو اُس سے پوچھا کہ یہاں کونسا اچھا آدمی ہے کونسا بُرا ہے اور اُس کی کیا شہرت ہے۔اب ممکن کی