سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 900

سیر روحانی — Page 42

۴۲ ہوئی ، اب ہمیں دیکھنا چاہئے کہ پہلی سے پیدا ہونے کے کیا معنے ہیں؟ کیونکہ واقع یہ ہے کہ کوئی عورت پسلی سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ جس طرح مرد پیدا ہوتے ہیں اسی طرح عورتیں پیدا ہوتی ہیں پس جب کہ عورتیں بھی مردوں کی طرح پیدا ہوتی ہیں ، تو سوال یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کیوں فرمایا کہ عورتیں پسلی سے پیدا ہوئی ہیں، سو یا د رکھنا چاہئے کہ یہ بھی اسی محاورہ کے مطابق ہے جس کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے اور اس محاورہ سے صرف یہ مراد لی جاتی ہے کہ یہ امر فلاں شخص کی طبیعت میں داخل ہے۔پس خُلِقْنَ مِنْ ضِلْعِ سے صرف یہ مراد ہے کہ عورت کو کسی قدر مرد سے رقابت ہوتی ہے اور وہ اس کے مخالف چلنے کی طبعا خواہشمند ہوتی ہے، چنانچہ علمائے احادیث نے بھی یہ معنے کئے ہیں اور مجمع البحار جلد دوم میں جو لغت حدیث کی نہایت مشہور کتاب ہے ضلع کے ہے۔نیچے لکھا ہے۔خُلِقْنَ مِنْ ضِلْعِ اِسْتِعَارَةٌ لِلْمُعَوَّجِ أَى خُلِقْنَ خَلْقاً فِيهَا الْاِعْوِجَاجُ۔خُلِقْنَ مِنْ ضِلع " ایک محاورہ ہے جو کبھی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ عورتوں کی طبیعت میں ایک قسم کی بھی ہوتی ہے یہ مطلب نہیں کہ عورتوں میں بے ایمانی ہوتی ہے بلکہ یہ ہے کہ عورت کو خاوند کی بات سے کسی قدرضرور رقابت ہوتی ہے۔مرد کہے یوں کرنا چاہئے تو وہ کہے گی یوں نہیں اسی طرح ہونا چاہئے اور خاوند کی بات پر ضر و ر اعتراض کرے گی اور جب وہ کوئی بات مانے گی بھی تو تھوڑی سی بحث کر کے اور یہ اس کی ایک ناز کی حالت ہوتی ہے اور اس میں وہ اپنی حکومت کا راز مستور پاتی ہے۔تمدنی ترقی کا ایک عظیم الشان گر غرض خُلِقنَ مِنْ ضلع کے یہی معنے ہیں کہ عورت مرد پر اعتراض ضرور کرتی رہے گی ، ان میں محبت بھی ہوگی، پیار بھی ہوگا ، تعاون بھی ہوگا ، قربانی کی روح بھی ہوگی ، مگر روز مرہ کی زندگی میں ان میں آپس میں نوک جھوک ضرور ہوتی رہے گی اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش نہ کرو اگر سیدھا کرو گے تو وہ ٹوٹ جائے گی ، یعنی اگر تم چا ہو کہ وہ تمہاری بات کی تردید نہ کرے تو اُس کا دل ٹوٹ جائیگا ، اُسے اعتراض کرنے دیا کرو کیونکہ عورت کی فطرت میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ اگر تم بالکل ہی اُس کی زبان بندی کر دو گے تو وہ جانور بن جائے گی اور عقل اور فکر کا مادہ اُس میں سے نکل جائے گا۔یہ تمدن کا ایک عظیم الشان نکتہ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا۔آپ کا اپنا عمل بھی اس کے مطابق تھا ، چنانچہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں سے کسی بات پر ناراض ہو کر گھر سے باہر چلے