سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 900

سیر روحانی — Page 41

۴۱ ان معنوں کے بعد اگر آدم پر بھی ان آیات کو چسپاں کیا جائے تو بھی یہی معنے ہونگے کہ آدم کی بیوی اسی کی جنس میں سے تھی۔یعنی طینی طبیعت کی تھی ناری طبیعت کی نہ تھی اور ممکن ہے اس صورت میں ادھر بھی اشارہ ہو کہ آدم کو حکم تھا کہ صرف مؤمنوں سے شادی کریں غیروں سے نہیں۔جب یہ ثابت ہو گیا کہ آدم کے وقت میں اور مرد و عورت بھی تھے اور آدم کی بیوی انہی میں سے تھی یعنی وہ آدم کی ہم مذہب تھی تو وہ سوال کہ آدم کی اولا د شادیاں کس طرح کرتی ہوگی آپ ہی آپ دُور ہو گیا۔جب مرد بھی تھے عورتیں بھی تھیں تو شادیوں کی دقت نہیں ہو سکتی تھی ، ہاں اگر اس سے پہلے کا سوال ہو تو آدم سے پہلے بشر تو شریعت کے تابع ہی نہ تھے ، نہ وہ شادی کے پابند تھے نہ کسی اور امر کے۔کیونکہ وہ تو نظام سے آزاد تھے اور جب وہ نظام سے آزاد تھے تو ان کے متعلق کوئی بحث کرنی فضول ہے۔بحث تو صرف اس شخص کے متعلق ہو سکتی ہے جو شریعت کا حامل ہوا اور عقل مدنی اس میں پیدا ہو چکی ہو اور ایسا پہلا وجود ابوالبشر آدم کا تھا اور ان کے بعد ان کے اتباع کا وجود تھا ان کے لئے اخلاق و شریعت کی پابندی لازمی تھی۔ان سے پہلے انسان نیم حیوان تھا اور ہر اعتراض سے بالا اور ہر شریعت سے آزاد۔اب میں اُس حدیث کو لیتا ہوں جس عورت کے پسلی سے پیدا ہونے کا مفہوم میں یہ ذکر آتا ہے کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے۔حدیث کے اصل الفاظ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہیں یہ ہیں کہ خُلِقْنَ مِنْ ضِلع ۳۸ یہ الفاظ نہیں ہیں کہ خُلِقَتْ حَوّاء مِنْ ضِلع جس طرح قرآن کریم کی اُن آیات میں جن میں خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا کے الفاظ آتے ہیں ہر عورت کا ذکر ہے حوا کا ذکر نہیں۔اسی طرح حدیث میں بھی حوا کا کہیں نام نہیں بلکہ تمام عورتوں کے متعلق یہ الفاظ آتے ہیں کہ خُلِقْنَ مِنْ ضِلْعِ اگر یہ الفاظ ہوتے کہ خُلِقَتْ زَوْجَةُ آدَمَ مِنْ ضِلْعِ تب تو یہ کہا جاسکتا کہ حوا جو آدم کی بیوی تھیں وہ پہلی سے پیدا ہوئیں مگر جب کسی حدیث میں بھی اس قسم کے الفاظ نہیں آتے بلکہ تمام عورتوں کے متعلق یہ ذکر آتا ہے کہ وہ پسلی سے پیدا ہو ئیں تو محض حوا کو پسلی سے پیدا شدہ قرار دینا اور باقی عورتوں کے متعلق تاویل سے کام لینا کس طرح درست ہو سکتا ہے اسی طرح ایک اور حدیث میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ اَلنِّسَاءُ خُلِقْنَ مِنْ ضِلْعِ ۳۹ که ساری عورتیں پسلی سے پیدا ہوئی ہیں۔پس جس طرح قرآنی آیات میں تمام عورتوں کا ذکر ہے۔اسی طرح احادیث میں بھی تمام عورتوں کا ذکر ہے اور ہر ایک کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ وہ پسلی سے پیدا