سیر روحانی — Page 605
میں نے وہ زرہ اُتار دی۔چنانچہ دیکھ لو اب میں صرف گر نہ پہن کر اس کے مقابلہ کیلئے جا رہا ہوں۔تو اسقدر اُن کے اندر مرنے کا شوق ہوتا تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں مرنا ایک بہت بڑی سعادت اور نعمت ہے۔پھر فرماتا ہے فَالْمُغِيرَاتِ صُبحا۔یہ سپاہی باوجود دیوانگی سے کلی طور پر روکے جانے کے اور شراب کے حرام ہونے کے اور لوٹ مار اور قتل و غارت سے روکے جانے کے اتنے دلیر ہونگے کہ دشمن کے پاس پہنچ کر ڈیرے ڈال دیں گے اور رات کو حملہ نہیں کریں گے بلکہ صبح ہونے پر حملہ کریں گے تا کہ بے خبر اور سوتے ہوئے دشمن پر حملہ نہ ہو اور اُسے لڑنے کا موقع ملے۔گویا چونکہ شہادت کے دلدادہ ہو نگے ، دشمن کو مقابلہ کا موقع دیں گے۔دوسرے براءت اور توبہ کا موقع دیں گے کہ اگر وہ چاہے تو اسلام کا اظہار کرے۔تیسرے غلط فہمی سے بچیں گے کہ غلطی سے کسی اور پر حملہ نہ ہو جائے۔فَاثَرْنَ بِهِ نَفْعًا۔اس میں یہ بتایا ہے کہ رات کو ڈیرے اس لئے نہیں ڈالیں گے کہ دشمن کے قریب آکر جوش ٹھنڈا ہو گیا ہے بلکہ مردانگی اور بہادری کے اظہار کے لئے ایسا کریں گے ور نہ صبح ہونے پر جب دشمن ہوشیار ہو جائے گا اُن کی روشنیوں کو رات کو دیکھے گا صبح اُنکی اذانیں سُنے گا اور لڑنے کے لئے آمادہ ہو جائے گا اور پھر یہ والہا نہ طور پر اُس کی طرف گھوڑے دوڑائیں گے حتی کہ صبح کے وقت جب شبنم کی وجہ سے غبار دبا ہوا ہوتا ہے اُن کے تیز دوڑنے کی وجہ سے اُس صبح کے وقت بھی زمین سے گرد وغبار اُٹھے گا۔پھر فرماتا ہے فَوَسَطنَ بِهِ جَمْعًا۔جس وقت وہ دوڑتے ہوئے اور گرد اڑاتے ہوئے پہنچیں گے بغیر تھے دشمن کی صفوں میں گھس جائیں گے۔بہ میں صبح کی طرف بھی ضمیر پھیری جاسکتی ہے۔اگر صبح کی طرف ضمیر پھیریں تو اس کے یہ معنے ہونگے کہ وہ بہادر ہرات کے اندھیرے میں نہیں بلکہ صبح کی روشنی میں دشمن کی آنکھوں کے سامنے اس کی صفوں میں گھس جائیں گے۔اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ دشمن کے پراگندہ ہونے کی حالت میں خواہ دن ہو یا رات حملہ نہیں کریں گے بلکہ جب وہ صف آرا ہو جائے تب اس پر حملہ کریں گے۔اس آیت میں اُن کی بہادری کی طرف دو اشارے ہیں۔ایک تو یہ کہ وہ سامنے کھڑے ہوکر پہلو بچاتے ہوئے حملہ نہیں کریں گے بلکہ جوش کی فراوانی میں دشمن کی صفوں کے اندر گھس ئیں گے حالانکہ جب خطرہ بڑھ جاتا ہے دشمن نرغہ میں لینے کے قابل ہو جاتا ہے۔