سیر روحانی — Page 600
۶۰۰ کے دوڑ پڑتے ہیں اور یہ طریق ہمیشہ فخر اور اظہارِ بہادری کے لئے اختیار کیا جاتا ہے۔صبح دوسرے معنے گھوڑے کا اگلے پاؤں لمبے کر کے مارنا ہوتا ہے جس سے اُس کے بازوؤں اور بغلوں میں فاصلہ ہو جائے۔پس دوسرے معنے اس کے یہ ہونگے کہ ہم اُن گھوڑوں کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو اگلے پاؤں لمبے کر کے مارتے اور اُچھل کر دوڑتے ہیں جس کے نتیجہ میں اُن کو کی بغلوں اور بازوؤں میں لمبا فاصلہ ہو جاتا ہے۔یہ چیز شدت شوق پر دلالت کرتی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ گھوڑے کے اندر تو کوئی شدت شوق نہیں ہوتی گھوڑے میں شدت شوق اپنے سوار کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔وہ جب دیکھتا ہے کہ میرے سوار کے اندر جوش پایا جاتا ہے تو گھوڑا بھی اس کے رنگ میں رنگین ہو جاتا ہے۔مقبلا نہ پر تیسرے معنے دوڑتے وقت گھوڑے کے سینہ سے آواز نکلنے کے ہیں جو عزم دلالت کرتی ہے۔جب نہ سوار کو موت سے دریغ ہوتا ہے نہ گھوڑا اپنی جان کی پرواہ کرتا ہے۔گو بظاہر اس جگہ گھوڑوں کا ذکر کیا گیا ہے لیکن مُراد سواروں کی حالت کا بتانا ہے کیونکہ گھوڑا اپنے سوار کی قلبی حالت سے متاثر ہوتا ہے اور یہ اُسی وقت ہوتا ہے جبکہ سوار کی دلی حالت اُس کے تمام جوارح سے ظاہر ہونے لگے۔مثلاً دوڑتے ہوئے سوار شوق کی شدت کی وجہ سے ایک ہی وقت میں ایڑیاں مارنے لگے مُنہ سے سیٹی بجانے لگے یا اُسے شاباش کہنے لگے۔اسی طرح باگ کو کھینچ کھینچ کر چھوڑے آگے کو جھک جائے تو گھوڑا سمجھ جاتا ہے کہ میرے سوار کی حالت والہا نہ ہو رہی ہے اور مجھے بھی ویسا ہی بننا چاہئے تب وہ خود بھی اُس کے دل کی کیفیت کے مطابق دوڑنا شروع کر دیتا ہے۔پس اس آیت میں مسلمان سواروں کے دل کی کیفیت کی شدت گھوڑوں کی حالت سے بتائی ہے کہ ان کے جذبات اس قدر بھڑک رہے ہونگے کہ اُس کا اثر خود گھوڑوں پر بھی جا پڑے گا اور وہ اپنے سوار کی قلبی کیفیت کے مطابق قابو سے باہر ہو جائیں گے اور گودمیں گے اورلڑائی میں جاتے ہوئے گلے سے اُن کی آوازیں نکلیں گی اور لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے لڑائی کے میدان میں اس طرح جائیں گے کہ گویا کسی بڑی شادی میں شامل ہونے کے لئے جا رہے ہیں۔جس کے یہ معنے ہیں کہ مسلمان مجاہد کثیر التعداد دشمن سے ڈرے گا نہیں بلکہ جنگ کو ایک نعمت غیر مترقبہ سمجھے گا اور یقین رکھے گا کہ اگر میں مارا گیا تو جنت میں جاؤنگا اور اگر زندہ رہا تو فتح حاصل کرونگا کیونکہ ان دو کے سوا اور کوئی تیسری صورت مسلمان کے لئے نہیں۔جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفار سے کہو کہ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَا إِلَّا