سیر روحانی — Page 583
۵۸۳ بِغَيْرِ عِلْمٍ " دیکھو جن ججوں کی لوگ پوجا کرتے ہیں یا جن انسانوں کی لوگ پوجا کرتے ہیں ، اُن کے متعلق کبھی کوئی بُر الفظ نہیں بولنا ورنہ پھر اُن کا بھی حق ہو جائے گا کہ وہ مقابل میں تمہارے خدا کو بھی گالیاں دیں اس طرح تم اپنے خدا کو گالیاں دینے کا موجب بنو گے۔گویا قرآن اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ مسلمان اور عیسائی جذبات کے لحاظ سے برابر ہیں، سچے مذہب والا اور جھوٹے مذہب والا دونوں برابر ہیں اگر اس کو حق ہے کہ اُسکے جذبات کو تلف کرے تو اُس کا بھی حق ہے کہ وہ ایسا کرے۔اگر یہ چاہتا ہے کہ اسکے جذبات کی ہتک نہ کی جائے تو پھر اُس کا فرض ہے کہ وہ دوسرے کے جذبات کی بھی ہتک نہ کرے۔جوش انتقام میں بھی عدل و انصاف کو ملحوظ رکھنے کی تاکید پھر جوش اور غضب میں انتقام کی طرف منتقل نہ ہونے کے لئے فرمایا يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرٍ مَنْكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى الَّا تَعْدِلُواء اِعْدِلُوا هُوَاَقْرَبُ لِلتَّقْوى وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ " یعنی اے مومنو! تم اللہ تعالیٰ کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔یعنی صرف خدا کی خاطر ہر کام کرو اور خدا تعالیٰ کے لئے تم گواہی دو کہ وہ منصف ہے۔یعنی اپنے عمل سے ثابت کرو کہ اگر تم منصف ہو تو پتہ لگ جائے کہ خدا نے تم کو انصاف کی تعلیم دی ہے اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم کسی سے بے انصافی کر بیٹھو۔دشمن بھی ہو تو پھر بھی انصاف کرو یہ تقوی کے زیادہ قریب ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو جانتا ہے۔تقویٰ اختیار نہ کرو گے تو سزا ملے گی گویا اس میں یہ نصیحت کی کہ :- اول ہر کام اللہ تعالیٰ کے لئے کرو کسی اور غرض کے لئے نہیں کہ اُس غرض کو پورا نہ ہوتے دیکھ کر راستہ بدل لو۔دوم خدا تعالیٰ نے جو معیار انصاف مقرر کیا ہے اُس کا نمونہ دوسروں کے سامنے پیش کرو اگر وہ نمونہ پیش نہ کرو گے تو لوگ کہیں گے ان کو خدا کی یہ تعلیم نہیں ہے جو یہ کہتے ہیں بلکہ اور تعلیم ہے۔ایک ہندو سے محسن سلوک کا شاندار نمونہ سوم اگر کوئی ظلم بھی کرے تو جوش میں آ کر ظلم نہیں کرنا بلکہ عدل کو کسی صورت میں بھی نہیں چھوڑ نا۔مجھے اس پر اپنا ایک واقعہ یاد آ گیا۔رتن باغ ( لاہور ) میں ہم رہتے تھے