سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 900

سیر روحانی — Page 38

۳۸ کہ پہلے تو انبیاء کی تعلیم کی مخالفت کی جاتی ہے لیکن آہستہ آہستہ جب وہ تعلیم دنیا کی اور تعلیموں پر غالب آ جاتی ہے تو منکر بھی اسے قبول کر لیتے ہیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ایک خدا کی تعلیم دینی شروع کی تو عیسائی اس تعلیم پر بڑا ہنتے اور کہتے کہ ایک خدا کس طرح ہو گیا ؟ زرتشتی بھی بنتے ، مشرکین مکہ بھی بنتے، مگر آہستہ آہستہ جب اس تعلیم نے دلوں پر قبضہ جمانا شروع کیا تو نتیجہ یہ نکلا کہ آج کوئی قوم بھی نہیں جو خدا تعالیٰ کی وحدانیت کی قائل نہ ہو۔حتی کہ عیسائی بھی تثلیث کا عقیدہ رکھنے کے باوجود اس بات کے قائل ہیں کہ خدا ایک ہی ہے تو طینی اور ناری مزاج والوں کا جھگڑا آج تک چلا آ رہا ہے اور ہمیشہ سے یہ نظر آتا ہے کہ جب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نئی تعلیم آتی ہے تو کچھ لوگ فرمانبرداری کرتے ہیں اور کچھ غصہ سے آگ بگولا ہو جاتے ہیں اور وہ مخالفت کرنی شروع کر دیتے ہیں۔قرآن کریم میں یہ آگ کا محاورہ بھی استعمال ہوا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک چا کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تَبَّتُ يَدَآ اَبِيُّ لَهَبٍ وتَبَّ " کہ آگ کے شعلوں کا باپ ہلاک ہو گیا۔اب خدا نے اس کا نام ہی آگ کے شعلوں کا باپ رکھ دیا مگر اس کے یہ معنے تو نہیں کہ اس سے آگ نکلتی تھی۔بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ شیطانی قسم کے لوگوں کا سردار تھا ( بعض مفسر اس نام کو گنیت بھی قرار دیتے ہیں اور بعض سفید رنگ کی طرف اشارہ مراد لیتے ہیں ) پس خَلَقْتَنِى مِنْ نَّارٍ يا مَارِجٍ مِّنْ نَّارٍات وغیرہ الفاظ سے اشارہ انسان کی اس حالت کی طرف ہے جب کہ وہ ابھی متمدن نہیں ہو ا تھا اور شریعت کا حامل نہیں ہوسکتا تھا۔حضرت آدم کے متعلق ایک اور زبردست انکشاف ایک اور زبردست انکشاف قرآن کریم آدمِ انسانیت کی کی نسبت یہ کرتا ہے کہ جنت میں لائے جانے سے پہلے ہی اُس کے پاس اُس کی بیوی تھی ، چنانچہ قرآن کریم میں آدم کی بیوی کی پیدائش کا کوئی ذکر ہی نہیں ، بلکہ عبارت ظاہر کرتی ہے کہ بیوی عام طریق پر اس کے ساتھ تھی جیسے مرد و عورت ہوتے ہیں۔چنانچہ : - (1) سورہ بقرہ میں جہاں آدم اور اس کی بیوی کا ذکر آتا ہے وہاں آدم کی بیوی پیدا کرنے کا کوئی ذکر ہی نہیں۔محض یہ حکم ہے يَادَمُ اسْكُنُ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ ٣٣ اے آدم ! جا تُو اور تیری بیوی تم دونوں جنت میں رہو۔یہ نہیں کہا کہ آدم اکیلا تھا اور اُس کی پسلی سے حوا کو پیدا کیا گیا بلکہ آیت کا جو اسلوب بیان ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ میاں بیوی پہلے