سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 577 of 900

سیر روحانی — Page 577

۵۷۷ اُس وقت مسلمانوں نے فیصلہ کیا کہ ہم مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتے ہم پیچھے ہٹیں گے۔جب پیچھے ہٹنے لگے تو یروشلم کے لوگ بلکہ پادری بھی روتے ہوئے آتے تھے اور ساتھ ساتھ کہتے جاتے تھے کہ خدا تم کو ہمارے ملک میں پھر لائے کیونکہ ہم نے امن تمہارے ذریعہ سے ہی دیکھا ہے۔حالانکہ اُن کی اپنی عیسائی حکومت تھی اور قیصر کے متعلق سمجھا جاتا تھا کہ وہ گویا پوپ کا قائم مقام ہے اور بادشاہ ہونے کے علاوہ وہ مذہبی طور پر بھی لیڈ ر ہے مگر وہ اُس کی حکومت کو توڑنے والی حکومت کے لئے باہر نکلے تھے۔اگر مسلمان مذہبی معاملات میں دخل دیتے ، اگر وہ اُن کے گر جوں میں دخل دیتے اور اگر وہ اُن پر سختیاں کرتے جو ہماری فقہ کی کتابوں میں لکھی ہیں تو اُن کی عقل ماری ہوئی تھی کہ وہ روتے ہوئے نکلتے کہ تم ہمارے گھروں میں آؤ ، ہمارے گر جے گرا ؤ اور ہمارے مذہب میں دخل دو وہ لازماً اُنکی مخالفت کرتے اور رومن ایمپائر کی مدد کرتے لیکن حالت یہ تھی کہ وہ روتے تھے۔پس جب مسلمان پیچھے ہٹ آئے تو وہ جانتے تھے کہ یروشلم سے اسلامی لشکر کو تو نکال لائے ہیں لیکن یروشلم میں ہیں ہزار جاسوس چھوڑ آئے ہیں جو ہمیں رومیوں کی خبریں دیں گے اور اُن کے ذریعہ ہم پھر واپس آجائیں گے۔تو یروشلم کا ہر عیسائی مسلمانوں کا جاسوس بن گیا تھا اور اُن کے ساتھ کام کرنے کے لئے تیار ہو چکا تھا۔اگر یہی سلوک مسلمان قو میں دوسروں کے ساتھ کرنا شروع کر دیں تو دیکھو فوراً صورت شروع ہو جائے گی کہ غیر ملکوں میں ہمارے ہمدرد پیدا ہونے شروع ہو جائیں گے اور ا وہ ہماری مدد کرنی شروع کر دیں گے۔نہ یہاں اللہ تعالیٰ نے کامیابی کے لئے صابر ہونے کی شرط لگائی ہے اور صابر کے معنے (۱) مصیبت کو برداشت کرنے (۲) استقلال سے نیک کاموں میں لگے رہنے اور اختلافات کو نظر انداز کر دینے کے ہوتے ہیں۔پس اگر مسلمان باہمی اختلاف چھوڑ کر موت یا نقصانِ مال اور نقصان آرام کا ڈر دُور کر دیں۔حصول مدعا کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے اُن کے لئے استقلال کے ساتھ بغیر وقفہ اور سستی اور تزلزل کے لگ جائیں تو دنیا کی ہر طاقت پر وہ غالب آسکتے ہیں بشرطیکہ وہ مظلوم ہوں ، کسی کے حق پر دست اندازی نہ کریں اور حریت ضمیر کو قائم کرنے کے ذمہ دار ہوں نہ کہ ڈنڈے سے اپنا مذہب منوانے پر تل جائیں جس سے منافقت بڑھتی ہے اور صفوں میں خلا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن کے ایجنٹ اُن ممالک میں پیدا ہو جاتے ہیں۔ہفتم۔دوسری حکومتوں کے نوبت خانوں سے تو یہ اعلان کئے جاتے ہیں کہ فلاں حکومت کی فوجیں