سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 900

سیر روحانی — Page 37

۳۷ آدم کی مخالفت جس وقت آدم کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا ہو گا کہ غاروں کو چھوڑ و اور باہر نکلو تو ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ اُس وقت کس قدر عظیم الشان شور برپا ہو ا ہو گا۔لوگ کہتے ہیں یہ پاگل ہو گیا ہے، سٹھیا گیا ہے ، اس کی عقل جاتی رہی ہے یہ ہمیں غاروں سے نکال کر سطح زمین پر بسانا چاہتا ہے اور اس کا منشاء یہ ہے کہ ہمیں شیر کھا جائیں ، چیتے پھاڑ جائیں اور ہم اپنی زندگی کو تباہ کر لیں اور اپنے جیسے دوسرے آدمیوں کے غلام بن کر رہیں۔مگر بہر حال کچھ لوگ آدم کے ساتھ ہو گئے اور کچھ مخالف رہے۔جو آدم کے ساتھ ہو گئے وہ طینی طبیعت کے تھے اور جنہوں نے مخالفت کی وہ ناری طبیعت کے تھے۔طین کے معنے ہیں جو دوسری شے کے نقش کو قبول کر لے۔پس آدم کی طبیعت طین والی ہو گئی تھی یعنی وہ نظام کے ماتحت دوسرے کی بات مان سکتا تھا جو فریق اس اطاعت اور فرمانبرداری کے لئے تیار نہ تھا اس نے اس کی فرمانبرداری سے انکار کیا اور کہا کہ ہم اعلی ہیں ہم ایسی غلطی نہیں کر سکتے ، یہ تو غلامی کی ایک راہ نکالتا ہے۔یہ وہی جھگڑا ہے جو آج تک چلا آ رہا ہے۔موجودہ زمانہ کے ناری طبیعت انسان آج دنیا متمدن ہے، آج دنیا مہذب ہے، آج دنیا مل جُل کر رہتی ہے مگر آج بھی ناری طبیعت کے لوگ پائے جاتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم دوسرے کی کیوں اطاعت کریں۔یہی ناری طبیعت والے پیغامی تھے جو حضرت خلیفہ اول کی ہمیشہ مخالفت کرتے رہے اور یہی ناری طبیعت والے پیغامی تھے جنہوں نے کہا کہ ہم ایک بچہ کی بیعت نہیں کر سکتے۔کل کا بچہ ہو اور ہم پر حکومت کرے یہ ہم سے کبھی برداشت نہیں ہو سکتا۔وہ جنہوں نے مخالفت کی وہ ناری طبیعت کے تھے مگر آپ لوگ طینی طبیعت کے تھے۔آپ نے کہا ہم آدم کے زمانہ سے خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت دوسروں کی اطاعت کرتے چلے آئے ہیں اب خلیفہ وقت کی اطاعت سے کیوں منہ موڑیں۔مصری صاحب نے بھی اسی ناری طبیعت کی وجہ سے میری مخالفت کی اور انہوں نے کہا کہ میں موجودہ خلیفہ کی اطاعت نہیں کر سکتا اسے معزول کر دینا چاہئے۔تو آج تک یہ دونوں فطرتیں چل رہی ہیں۔ناری مزاج والے ہمیشہ نظام سے بغاوت کرتے ہیں اور اپنے آپ کو خر کہتے ہیں مگر طینی مزاج والے نظام کے ماتحت چلتے اور اپنے آپ کو کامل انسان کہتے ہیں دونوں اصولوں کا جھگڑا آج تک چلا جا رہا ہے۔حالانکہ دونوں اسی زمین میں رہتے ، اسی میں مرتے اور اسی میں دفن ہوتے ہیں اور دونوں ہی کی طرف نبی آتے اور ان سے خطاب کرتے ہیں مگر قاعدہ ہے