سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 546 of 900

سیر روحانی — Page 546

۵۴۶ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور آپ نے فرمایا۔خزاعہ کے ساتھ ایک خطرناک واقعہ پیش آیا ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے سمجھ لیا کہ خزاعہ کے ساتھ خطرناک واقعہ یہی ہو سکتا ہے کہ وہ مکہ کی سرحد پر ہیں اور مکہ والے جن کا خزاعہ کے ساتھ معاہدہ ہے وہ خزاعہ پر حملہ کر دیں۔میں نے کہا۔يَارَسُولَ اللهِ ! کیا یہ ممکن ہے کہ اتنی قسموں کے بعد قریش معاہدہ توڑ دیں اور وہ خزاعہ پر حملہ کر دیں؟ آپ نے فرمایا ہاں اللہ تعالیٰ کی ایک حکمت کے ماتحت وہ اس معاہدہ کو توڑ رہے ہیں اور وہ حکمت یہی تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حملہ کی اجازت نہیں تھی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے کہا يَارَسُولَ اللَّهِ ! کیا اس کا نتیجہ اچھا نکلے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! نتیجہ اچھا ہی نکلے گا۔ھا غرض اُس دن پھر نوبت خانہ بجتا ہے۔اور اُدھر وہ واقعہ ہوتا ہے جو میں ابھی بیان کرونگا اور ادھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی اطلاع مل جاتی ہے۔بنوخزاعہ اور بنو بکر کی لڑائی اب واقعہ یوں ہوا کہ خزاعہ اور بنو بکر میں آپس میں لڑائی تھی اور بنو بکر ہمیشہ مکہ والوں کی مدد کرتے تھے۔خزاعہ نے عملی طور پر مسلمانوں کی کبھی مدد نہیں کی مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دادوں پڑدادوں سے اُن کے معاہدے تھے ، اُن کی مدد کیا کرتے تھے۔یوں مسلمانوں کو یہ ہمدردی تھی کہ اُن کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دادوں پڑدادوں سے تعلقات تھے۔جب یہ معاہدہ ہوا تو یوں تو وہ لڑائی کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے لیکن معاہدہ کے بعد بنو بکر نے سمجھا کہ اب تو یہ غافل رہیں گے اب موقع ہے ان کو مارنے کا۔چنانچہ وہ مکہ کے لوگوں کے پاس گئے اور اُن سے کہا کہ یہ بڑا اچھا موقع ہے معاہدہ ہو گیا ہے، ان کو تو خیال بھی نہیں ہوسکتا کہ ہم ان کو ماریں گے اگر اس وقت آپ ہماری مدد کریں تو ہم ان کو تباہ کر سکتے ہیں۔مکہ والوں نے کہا بڑی اچھی بات ہے تم ہمیشہ ہماری مدد کرتے رہے ہو ہم تمہاری مدد کریں گے چنانچہ باہمی مشورہ کے بعد ایک اندھیری رات انہوں نے تجویز کی اور فیصلہ کیا کہ رات کے وقت حملہ کریں گے۔مکہ کے لشکر ہمارے ساتھ آجائیں کسی نے کیا پہچانتا ہے کہ مکہ والے بیچ میں موجود ہیں یہی کہیں گے کہ بنوبکر کے لوگ ہیں اور پھر چوری چوری اُن کو مار کر آجائیں گے اُن کو وہم بھی نہیں ہوگا۔چنانچہ رات جو مقررتھی اس رات وقتِ مقررہ پر بنو بکر کا لشکر اور قریش کا لشکر مل کر وہاں گیا اور انہوں نے خزاعہ پر حملہ کر دیا۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ہم سجدے کر رہے