سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 900

سیر روحانی — Page 545

۵۴۵ بعض کہتے ہیں کہ فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے لیکن کچھ اور مفسرین اور صحابہؓ کہتے ہیں کہ اس سے مراد فتح مکہ ہے اور اُن کے اِس خیال کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ ابن مردویہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ وہ فرماتی ہیں میں نے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنا کہ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيناً میں جس فتح کا ذکر ہے اُس سے مراد فتح مکہ ہے۔گویا خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فیصلہ ہے کہ اس جگہ فتح سے مراد فتح مکہ ہے لیکن اگر صلح حدیبیہ لو تب بھی فتح مکہ صلح حدیبیہ کے نتیجہ میں ہی ہوئی اگر صلح حدیبیہ نہ ہوتی تو فتح مکہ بھی نہ ہوتی۔۱۳ خدائی نوبت خانہ کی ایک اور خبر اب یہ جواطلاع ملی تھی کہ یمن آئے گا اورحملہ کرے گا اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوگی اس کے واقعات کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کس طرح ہوئے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ پہلے تو قریباً ڈیڑھ سال پہلے نوبت خانہ نے اطلاع دی کہ دشمن آئے گا، اس کے بعد جب یہ وقت قریب آ گیا تو خدائی نوبت خانہ نے پھر دشمن کے حملہ کی خبر دی۔چنانچہ جب دشمن کے آنے کا وقت قریب آ گیا تو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات میری باری میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں سو رہے تھے۔جب آپ تہجد کے لئے اٹھے تو آپ وضو فرماتے ہوئے بولے اور مجھے آواز آئی کہ آپ فرما رہے 09۔ہیں۔لبیک لبیک لبیک۔اس کے بعد آپ نے فرمایا۔نُصِرْتَ۔نُصِرُتَ۔نُصِرْتَ۔کہتی ہیں۔جب آپ باہر تشریف لائے تو میں نے کہا۔يَا رَسُولَ اللهِ ! کیا کوئی آدمی آیا تھا اور آپ اس سے باتیں کر رہے تھے ؟ آپ نے فرمایا۔ہاں ! میرے سامنے کشفی طور پر خزاعہ کا ایک وفد پیش ہوا اور وہ شور مچاتے چلے آرہے تھے کہ ہم محمد کو اس کے خدا کی قسم دے کر کہتے ہیں کہ تیرے ساتھ اور تیرے باپ دادوں کے ساتھ ہم نے معاہدے کئے تھے اور ہم تیری مدد کرتے چلے آئے ہیں مگر قریش نے ہمارے ساتھ بد عہدی کی اور رات کے وقت ہم پر حملہ کر کے جبکہ ہم میں سے کوئی سجدہ میں تھا اور کوئی رکوع میں ہم کو قتل کر دیا اب ہم تیری مدد حاصل کرنے کیلئے آئے ہیں۔غرض میں نے دیکھا کہ خزاعہ کا آدمی کھڑا ہے۔جب مستشفی طور پر وہ آدمی مجھے نظر آیا تو میں نے کہا۔لَبَّیک لَبَّيْكَ۔لَبَّیک میں تمہاری مدد کے لئے حاضر ہوں میں تمہاری مدد کے لئے حاضر ہوں، میں تمہاری مدد کیلئے حاضر ہوں، پھر میں نے کہا۔نُصِرْتَ۔نُصِرْتَ نُصرت " تجھے مدد دی جائے گی ، تجھے مدد دی جائے گی ، تجھے مدددی جائے گی۔پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اُسی دن صبح کے وقت رسول کریم