سیر روحانی — Page 536
۵۳۶ کی جنگ تو کہیں تو دس سال بعد ہوئی مگر ٹو دس سال پہلے بلکہ حکومت بننے سے بھی چار سال پہلے خبر دی گئی کہ اسطرح دشمن داخل ہو گا۔آب گجا یہ نوبت خانہ اور گجا وہ نوبت خانه که دشمن اندر داخل ہو جائے تو بادشاہ کو خبر ہوتی تھی اور اتنی دیر میں وہ سو دو سو میل تک ملک پر قابض بھی ہو جاتا تھا۔کتنا بڑا زمین و آسمان کا فرق ہے جو ان دونوں نوبت خانوں میں پایا جاتا ہے۔چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ احزاب کے موقع پر جب سارا عرب اکٹھا ہو گیا اور اُس نے مدینہ پر حملہ کیا تو بجائے اس کے کہ مسلمانوں کے دلوں میں تکلیف اور گھبراہٹ پیدا ہوتی یا ڈر پیدا ہوتا اُن کے ایمان بڑھنے شروع ہوئے کہ خدا تعالیٰ نے تو یہ خبر پہلے سے دی ہوئی تھی۔جب خدا نے پہلے سے خبر دی ہوئی ہے تو ان کے داخل ہونے سے ہمیں کیا ڈر ہے۔خدا نے کہا تھا کہ لوگ اکٹھے ہو کر حملہ کے لئے آئیں گے اور ہمیں اُمید بھی تھی کہ آئیں گے اور جب وہ بات پوری ہو گئی تو اگلی کیوں نہ پوری ہوگی یہ ایک بڑا بھاری نشان ہوتا ہے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زمانہ میں مسلمانوں کی تباہی اور اُن کی خرابیوں کے متعلق خبریں دیں اور پھر بتایا کہ اس کے بعد خدا تعالیٰ ایک ایسا زمانہ پیدا کرے گا کہ مسلمانوں کی تباہی دُور ہو جائے گی اور مسلمان پھر ترقی کرنا شروع کر دیں گے۔چنانچہ میں نے پہلے بھی کئی دفعہ سُنایا ہے ایک دوست کی بیعت کا دلچسپ واقعہ کہ میں دتی میں تھا ، اس سفر میں نہیں بلکہ اس سے پہلے ایک سفر میں ہم قلعہ میں گئے تو وہاں جو شاہی مسجد ہے اُس کو دیکھنے کے لئے چلے گئے میرے ساتھ سارہ بیگم مرحومہ اور میری لڑکی ناصرہ بیگم تھیں۔میں نے کہا اس مسجد میں کوئی نماز نہیں پڑھتا چلونماز پڑھ چلیں کبھی نہ کبھی کوئی نماز پڑھنے والا یہاں بھی آجانا چاہئے۔چنانچہ میں نے اُنکو ساتھ لیا اور وہاں نماز پڑھنی شروع کی۔چنانچہ ہماری نماز اور غیر احمدیوں کی نماز میں فرق ہوتا ہے وہ تو جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے جس طرح مُرغا دانے چنتا ہے اسی طرح وہ کرتے ہیں اور ہمیں یہ حکم ہے کہ خشوع اور خضوع کے ساتھ نماز پڑھو۔غرض ہم جو نماز پڑھنے لگے تو ہم نے نصف یا پون گھنٹہ نمازوں میں لگا دیا۔میں ابھی نماز سے فارغ نہیں ہوا تھا کہ میں نے دیکھا کہ جیسے کوئی جلدی جلدی جاتا ہے اس طرح میری بیوی اور میری دونوں جلدی جلدی مجھے چھوڑ کے پیچھے ہٹ گئیں۔میں نے نماز سے سلام پھیرا اور باہر آیا تو سارہ بیگم مرحومہ سے میں نے کہا کہ تم کیوں آگئی تھیں ؟ انہوں نے کہا یہاں کوئی اور مسافر عورتیں