سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 900

سیر روحانی — Page 530

۵۳۰ ہے کہ لوگ آئیں اور بادشاہ کی زیارت کر لیں اور اگر قریب پہنچ جائیں تو اپنی عرضیاں بھی پیش کر لیں بلکہ بعض جگہوں پر انہوں نے بکس لگائے ہوئے تھے جن میں لوگ عرضیاں ڈال دیتے تھے اور بعض جگہ چھینکے لٹکا دیتے تھے جن میں لوگ عرضیاں ڈال دیتے تھے اور پھر بادشاہ انہیں پڑھ لیتا تھا۔گویا یہ تین باتیں تھیں جن کو مد نظر رکھتے ہوئے نوبت خانے بنائے جاتے تھے۔اور واقع میں اس نظارہ کا خیال کر کے خصوصاً انگریزوں کی کا رونیشن (CORONATION) دیکھ کر دیکھنے والوں کو خیال آتا تھا کہ کس طرح ہمارے مسلمان بادشاہ نکلتے ہونگے اور جس طرح ہمارے ہندوستانی دُور دُور دھکے کھاتے پھرتے ہیں اسی طرح اُس وقت انگریز سیاح آتے ہونگے تو دو دو میل پر بادشاہ کو دیکھنے کے لئے کھڑے ہوتے ہونگے اور کہتے ہونگے ہم نے بھی بادشاہ کو دیکھنا ہے۔مگر آج یہ حالت ہے کہ انگریز تخت پر بیٹھتا ہے اور اُن پٹھان یا مغل بادشاہوں کی اولادیں دُور دُور تک دھکے کھاتی پھرتی ہیں بلکہ ہم نے دہلی میں دیکھا ہے کہ شہزادے پانی پلاتے پھرتے تھے اس طرح دل کو ایک شدید صدمہ ہو تا تھا۔قرآنی نوبت خانہ کا کمال لیکن جب خدا تعالیٰ نے مجھے توجہ دلائی کہ ان چیزوں کو تم کیا دیکھ رہے ہو ہم تم کو اس سے بھی ایک بڑا نوبت خانہ دکھاتے ہیں جو قرآن کریم میں موجود ہے اور وہ اِس سے زیادہ شاندار ہے۔تب میں نے سوچا کہ یہ جو نو بت خانہ بجا کرتا تھا اور جس سے وہ کناروں کو اطلاع دیا کرتے تھے کہ دشمن داخل ہو گیا ہے اس کے مقابلہ میں قرآن کا نوبت خانہ کیا کہتا ہے۔اس پر میں نے ان کو بت خانوں کے متعلق تو یہ دیکھا کہ جب دشمن کی فوجیں ملکی سرحدوں میں گھس آتی تھیں یا کم سے کم سرحدات تک آپہنچتی تھیں تو اُس وقت نو بتیوں کو پتہ لگتا تھا کہ اب دشمن آ رہا ہے اور وہ نو بتیں بجانی شروع کر دیتے تھے۔مگر اس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ دشمن احتیاط سے اور اپنی فوجوں کو چھپا کر لاتا تو بعض دفعہ وہ سو سو میل اندر گھس آتا تھا پھر کہیں پتہ لگتا تھا کہ حملہ آور دشمن اندر گھس آیا ہے اور پھر اطلاع ہونی شروع ہوتی تھی۔اس طرح عام طور پر حملہ آور کچھ نہ کچھ حصے پر قابض ہو جاتا تھا اور پتہ نہیں لگتا تھا کہ وہ کس وقت آیا ہے۔داخل ہونے کے بعد معلوم ہوتا تھا کہ دشمن اندر گھس آیا ہے مگر اس نوبت خانہ کو میں نے دیکھا کہ اسلامی حکومت کا ایک نا ئب اور خدا کا خلیفہ مکّہ مکرمہ میں پھر رہا ہے معمولی سادہ لباس ہے ، اُس کے ساتھی نہایت غریب اور بے کس لوگ ہیں ،