سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 528 of 900

سیر روحانی — Page 528

۵۲۸ غرض نوبت خانوں کی غرض ایک تو یہ ہوا کرتی تھی کہ مرکز میں یہ خبر پہنچ جائے کہ دشمن حملہ آور ہوا ہے۔یہ ظاہر ہے کہ جس زمانہ میں ابھی تار نہیں نکلی تھی یہ طریق بڑا مفید تھا جو حکومت کی ہوشیاری اور اپنے فرض کے ادا کرنے پر تیار ہونے کی ایک علامت تھی۔گجا حیدر آباد دکن کا علاقہ جو ہزار میل یا اُس سے بھی زیادہ فاصلہ پر ہے اور کجا یہ کہ چند گھنٹوں میں خبریں پہنچ جاتی تھیں۔اسی طرح پشاور سے دتی تک خبریں پہنچ جاتی تھیں اور بنگال سے دتی تک خبریں پہنچ جاتیں۔نوبت خانوں کی دوسری غرض یہ ہوا کرتی تھی کہ نوبت خانوں کی دوسری غرض جب بادشاہ کسی علاقہ پر حملہ کرنے کیلئے اپنے لشکر کو لیکر مرکز سے روانہ ہو تو اُس جہت میں رہنے والی تمام رعایا کو علم ہو جائے کہ شاہی لشکر آ رہا ہے اور وہ بھی دشمن کے مقابلہ کے لئے تیار ہو جائے۔چنانچہ جب بادشاہ کسی طرف حملہ کرتا تھا تو اُس طرف اُلٹی نوبت بجنی شروع ہو جاتی تھی۔مثلاً دتی سے بادشاہی لشکر نے روانہ ہونا ہے اور فرض کرو کہ حملہ اتنی وسیع جگہ پر ہو گیا ہے اور اتنا بڑا ہے کہ بادشاہی فوجوں کا وہاں فوری طور پر پہنچنا ضروری ہے تو دلی میں نوبت پڑتی تھی اور پھر جس طرف آگے جانا ہوتا تھا اُس طرف کے نوبت خانے بجنے شروع ہو جاتے تھے۔غرض جس لائن پر نوبت خانے بجتے چلے جاتے تھے لوگوں کو معلوم ہو جاتا تھا کہ اِس لائن پر لشکر نے جانا ہے۔اگر حیدر آباد کی طرف بادشاہ کا لشکر جا رہا ہے تو پہلے ایک پڑاؤ پر نوبت بجے گی ، پھر دوسرے پر بجے گی ، پھر تیسرے پر بجے گی اور پھر بجھتی چلی جائے گی اور جہاں تک نوبت بجے گی لوگوں کو پتہ لگ جائے گا کہ بادشاہ نے کہاں تک آنا ہے۔اگر بنگال کی طرف شاہی لشکر نے جانا ہے تو پہلے مرکز میں نوبت پڑے گی اور پھر آگے نوبت پڑے گی اور پھر آگے نوبت پڑے گی ، پھر پڑتے پڑتے بنگال والوں کو اطلاع ہو جائے گی کہ وتی سے بادشاہ کا لشکر چل پڑا ہے۔پشاور کی طرف حملہ ہوا ہو تو اُدھر خبر پہنچ جائے گی کہ دتی سے بادشاہ فوج لے کر چل پڑا ہے۔یہ ظاہر ہے کہ جیسے تاریں آجاتی ہیں کہ ہوائی جہازوں پر ایک دستہ آرہا ہے اتنی فوج چل پڑی ہے اور فلاں جرنیل مقرر کیا گیا ہے تو اس سے فوج کے حوصلے بڑھ جاتے ہیں اور اگر ایک فوج اپنے آپ کو کمزور بھی سمجھتی ہے اور وہ خیال کرتی ہے کہ وہ دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتی تو جب اُسے یہ خبر پہنچ جائے کہ دو تین دن تک ہماری تازہ دم فوج اُس کی مدد کے لئے پہنچ جائے گی تو اُس کے حوصلے بلند ہو جاتے ہیں اور وہ لڑ کر مرنے کیلئے تیار ہو جاتی ہے اور سمجھتی ہے کہ ہم