سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 900

سیر روحانی — Page 524

۵۲۴ تھی اور اب ۱۹۵۳ء آ گیا ہے اور ابھی تک وہ سارا مضمون ختم نہیں ہوا۔سولہ چیزیں تھیں جو میں نے منتخب کی تھیں اور جن کے متعلق میں متشابہ قرآنی دعوے اور قرآنی تعلیم پیش کرنا چاہتا تھا ان میں سے اس وقت تک دس کے متعلق تقریریں ہو چکی ہیں۔۱۹۳۸ء میں جنتر منتر ، وسیع سمندر اور آثار قدیمہ کے متعلق تقریر ہوئی تھی۔۱۹۴۰ء میں مساجد اور قلعوں کے متعلق تقریر ہوئی تھی۔۱۹۴۱ء میں مُردہ بادشاہوں کے مقابر اور مینا بازار کے متعلق تقریر ہوئی تھی۔پھر اس تی کے بعد ۱۹۴۲ء ،۱۹۴۳ء ،۱۹۴۴ء، ۱۹۴۵ء ، ۱۹۴۶ء اور ۱۹۴۷ء میں اس موضوع پر کوئی تقریر نہیں ہوئی۔۱۹۴۸ء میں ایک وسیع اور بلند مینار کے متعلق تقریر ہوئی تھی۔پھر ۱۹۵۰ء کے جلسہ میں دیوانِ عام کے متعلق تقریر ہوئی تھی اور ۱۹۵۱ء کے جلسہ میں دیوانِ خاص کے متعلق تقریر ہوئی۔اس طرح گویا دس مضامین اِن میں سے ہو گئے چونکہ اس مضمون کے بیان ہونے میں لمبا فاصلہ ہو گیا ہے اس لئے میر انشاء تھا کہ میں مختصر کر کے باقی چھ مضامین اکٹھے بیان کر دوں اور کتاب مکمل ہو جائے لیکن جیسا کہ میں گل بتا چکا ہوں چند مہینوں سے جو مجھے گلے کی تکلیف شروع ہوئی تو اس کی وجہ سے میں نے محسوس کیا کہ میں لمبا مضمون بیان نہیں کر سکوں گا اور چھ مضامین بیان کرنے کے لئے غالباً پانچ چھ گھنٹے لگ جائیں گے اس لئے اور کچھ اس وجہ سے بھی کہ طبیعت کی خرابی کی وجہ سے میں رات کے وقت لیمپ سے کام نہیں کر سکتا اور بجلی ابھی یہاں آئی نہیں محکمہ دو سال سے ہم سے وعدے کر رہا ہے مگر اب تک اُسے ایفائے عہد کی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔جب وہ آ جائے تو مجھے امید ہے کہ بیماری میں بھی کچھ نہ کچھ کام میں رات کو کر سکوں گا لیکن روشنی اگر کافی نہ ہو تو اب میری نظر رات کو زیادہ کام نہیں کر سکتی۔دوسرے تیل کی بُو کی وجہ سے مجھے نزلہ بھی جلدی ہو جاتا ہے اور تیل کے لیمپ سے کام کرنا میرے لئے مشکل ہو جاتا ہے اس لئے میں زیادہ وقت نوٹ لکھنے پر بھی نہیں لگا سکتا تھا اور کچھ میری بیماری کی وجہ سے لاہور کے ڈاکٹروں نے جو شخے تجویز کئے وہ ایسے مضعف تھے کہ در حقیقت یہ پچھلا سارا مہینہ ایسا گزرا ہے کہ اکثر حصہ مجھے چار پائی پر لیٹ کر گزارنا پڑتا تھا اور بیٹھنا بھی میرے لئے مشکل ہوتا تھا اور دوائی بھی ایسی تھی جو کہ خواب آور تھی اسلئے اکثر وقت مجھے اونگھ ہی آتی رہتی تھی اور میں کام نہیں کر سکتا تھا۔پس ان مجبوریوں کی وجہ سے میں نے صرف ایک مضمون پر ہی اکتفاء کیا اور آج اُسی مضمون کے متعلق میں کچھ باتیں کہوں گا۔بعض دفعہ الہی تصرف ایسا ہوتا ہے کہ چھوٹی سی باتوں کو اللہ تعالیٰ لمبا کر دیتا ہے۔اور بعض دفعہ طبیعت پر ایسا بوجھ پڑتا ہے