سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 900

سیر روحانی — Page 523

اللهِ الرَّحْمَنِ ۵۲۳ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ (۷) تقریر فرموده مورخه ۲۸ دسمبر ۱۹۵۳ء بر موقع جلسہ سالانہ ربوہ) عالم روحانی کا نوبت خانہ تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا : - اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ ایسے الفاظ میں اُتاری ہے کہ محسر ہو یا یسر ہو مؤمن کے لئے یہ سورۃ ہمیشہ ہی ایک مستقل صداقت ، ایک نہ مٹنے والی حقیقت اور ایک محبت کا گہرا راز بنی رہتی ہے۔انسانوں پر تو کل کرنے والے اور ظاہری طاقت وشان کو دیکھنے والے لوگ کبھی کبھی با وجود بڑی بڑی تیاریوں کے ، باوجود بڑے بڑے ارادوں کے ، باوجود بڑی بڑی امدادوں کے ، با وجود بڑے بڑے سامانوں کے ناکامی اور نامرادی کا منہ دیکھ لیتے ہیں۔ہٹکر اپنی تمام شان کے باوجود مشرقی جرمنی کی جنگ میں ہار جاتا ہے۔نپولین اپنے عظیم الشان تجربہ اور عزم کے باوجود واٹر لو میں شکست کھا جاتا ہے۔لیکن خدا کے بندے اور خدا کے پرستار اور خدا کے موعود صبح بھی اور شام بھی اور رات بھی اور دن بھی سچے دل سے بغیر منافقت کے، بغیر جھوٹ کے خدا کے حضور یہ کہتے ہیں الْحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ۔اُن کی ناکامیاں عارضی ہوتی ہیں ، اُن کی تکلیفیں محض چند لمحات کی اور اُن کی مشکلات بالکل بے حقیقت ہوتی ہیں جن کے ساتھ خدا کھڑا ہوتا ہے اُن کو کسی دوسری چیز کا ڈر ہی کیا ہوسکتا ہے۔میں نے ذکر کیا تھا کہ کل انشاء اللہ تعالیٰ میں حسب طریق سابق ایک چند تمہیدی امور مضمون کے متعلق کچھ خیالات ظاہر کرونگا۔اس دفعہ میں نے اس مضمون کے لئے پھر ” کو چنا ہے ”“ کی تقریر ۱۹۳۸ء سے شروع ہوئی