سیر روحانی — Page 507
۵۰۷ میں تقویٰ پیدا ہو۔۱۲۵ غرض اسلام احکام کے ساتھ حکمتیں بھی بیان کرتا ہے اور یہ اسلام کی اتنی بڑی فضیلت ہے جس کا مقابلہ دنیا کا اور کوئی مذہب نہیں کر سکتا، آپ نے بتایا کہ خدا تعالیٰ حکیم بھی ہے وہ کوئی حکم بغیر کسی حکمت کے نہیں دیتا پس خدائی تعلیم کے یہ معنے نہیں کہ اُس کے احکام حکمتوں سے خالی ہوں اور محض جبر کے طور پر کچھ باتیں منوانے کی کوشش کی گئی ہو بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف کسی بات کا منسوب ہونا تقاضا کرتا ہے کہ وہ بات لازمی طور پر مختلف قسم کی حکمتوں سے پر ہو، تاکہ انسانی دل انقباض محسوس نہ کرے بلکہ وہ خوش ہو کہ جس حکم پر میں عمل کر رہا ہوں اُس میں میرا بھی فائدہ ہے اور دوسرے بنی نوع انسان کا بھی فائدہ ہے۔تزکیہ نفوس چوتھا اور اہم کام جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کیا گیا تھا وہ تزکیۂ نفوس ہے یعنی لوگوں کے دلوں میں ایسی پاکیزگی پیدا کرنا کہ وہ خدا تعالیٰ کے قریب ہو جائیں اور اُس کی قدرتوں کا جلوہ گاہ بن جائیں، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام کو بھی ایسے احسن طریق سے پورا کیا ہے کہ دوست ہی نہیں دشمن بھی اس بات کے معترف ہیں کہ آپ نے دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر دیا۔آپ جس زمانہ میں مبعوث ہوئے ہیں اس زمانہ میں مذہب ہی نہیں انسانیت بھی مر چکی تھی اور شرافت دنیا سے مفقود ہو چکی تھی۔ہر قسم کا فسق و فجو رلوگوں میں پایا جاتا تھا اور ہر قسم کی نیکی عنقا تھی یہاں تک کہ بدی کا احساس بھی لوگوں کے قلوب سے مٹ چکا تھا اور وہ ندامت اور شرمندگی محسوس کرنے کی بجائے بدیوں کے ارتکاب پر فخر محسوس کرتے تھے۔ایسے خطر ناک زمانہ میں آپ نے تزکیہ نفوس کا کام شروع کیا اور ہر قسم کی روکوں اور انتہائی مظالم کے باوجود اس کام کو جاری رکھا یہاں تک کہ وہ دن آگیا کہ صدیوں کے مُردوں نے اپنے اندر زندگی کی روح محسوس کی ، قبروں میں دبے پڑے لوگ باہر نکل آئے ، اندھوں نے بینائی حاصل کی ، لولے اور لنگڑے چلنے لگے ، کمزوروں نے اپنے اندر طاقت کی ایک لہر دوڑتی ہوئی پائی ، بیماروں نے صحت کے آثار محسوس کئے اور جہالت کی جگہ علم نے ، جمود کی جگہ سعی عمل کی نے ، شیطنت کی جگہ روحانیت نے اور بدی کی جگہ نیکی نے لے لی۔برسوں کے مسخ شدہ انسان آپ کے فیض صحبت سے ایسے پاک ہوئے کہ اُن کی کایا پلٹ گئی ، وہ خدائے واحد کے آستانہ کی طرف کھینچے گئے اور دنیا کی ہدایت کے لئے ایک ایسا مینار بن گئے کہ آج بھی اُن کی روشنی