سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 900

سیر روحانی — Page 495

۴۹۵ کر نماز بھی ادا نہیں کر سکتے تھے اور آپ کے پیغام کو ماننے والے صرف چند افراد تھے جو اُنگلیوں پر گنے جا سکتے تھے۔تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو اُس وقت تک مکہ کے گل بیاسی آدمی آپ پر ایمان لائے تھے ۱۰۳ مگر یہ تو آخری دنوں کی بات ہے اس سے پہلے یہ حالت تھی کہ صرف چند آدمی جن کی تعداد دس پندرہ سے زیادہ نہیں تھی آپ پر ایمان لائے۔مکہ کی آبادی اُس وقت آٹھ دس ہزار کی تھی اور آٹھ دس ہزار کی آبادی میں سے ایک دودرجن کے قریب آدمیوں کا ساتھ ہونا اور سارے شہر کے لوگوں کا مخالف ہونا اور ایسا مخالف ہونا کہ ہر وقت ان کا مسلمانوں کی جان لینے کی فکر میں رہنا بتاتا ہے کہ مسلمانوں کی اُس وقت کیسی نازک حالت تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گلا گھونٹنے کی کوشش خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت تھی کہ گوآر کو خانہ کعبہ میں جا کر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں تھی مگر کبھی کبھی آپ محبت الہی کے جوش میں وہاں چلے جاتے اور نماز ادا فرماتے۔ایک دفعہ آپ نماز پڑھ رہے تھے کہ شہر کے غنڈے اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے آپ کو پیٹنا شروع کر دیا اور پھر آپ کے گلے میں پٹکا ڈال کر اُسے گھونٹنے لگے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع ملی تو آپ دوڑے دوڑے وہاں آئے اور انہیں ہٹانا شروع کیا اُس وقت وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خون پو نچھتے جاتے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے کہ اے میری قوم! تم کو کیا ہو گیا کہ تم ایک ایسے شخص کو مارتے ہو جس کا قصور سوائے اس کے اور کوئی نہیں کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے۔اسی طرح آپ پر ایمان لانے والوں کو طرح طرح کے دُکھ دیئے جاتے۔اولد حضرت عثمان بن مظعون کا واقعہ حضرت عثمان بن مظعون ایک بہت بڑے رئیس کی اولاد میں سے تھے۔ہجرت اولیٰ کے مسلمان۔وقت وہ ایسے سینیا کی طرف چلے گئے تھے مگر بعد میں کفار نے یہ خبر اُڑا دی کہ مکہ کے تمام لوگ ہو گئے ہیں۔اس پر بعض لوگ حبشہ سے واپس آگئے جن میں حضرت عثمان بن مظعون بھی شامل تھے۔جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ خبر جھوٹی تھی تو انہوں نے دوبارہ ایسے سینیا جانے کا ارادہ کیا اس پر ملکہ کا ایک رئیس جو اُن کے باپ کا گہرا دوست تھا اُن سے ملا اور اُس نے کہا تم واپس نہ جاؤ میں تمہیں اپنی پناہ میں لے لیتا ہوں۔چنانچہ مروجہ دستور کے مطابق وہ انہیں