سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 900

سیر روحانی — Page 489

۴۸۹ مگر پہاڑ اپنی جگہ سے نہیں ہل سکتا وہاں اپنے ماننے والوں کے متعلق آپ کے دل میں اس قدر محبت اور پیار کے جذبات پائے جاتے تھے کہ احادیث میں لکھا ہے ایک دفعہ ایک مخلص عورت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خوبصورت چادر پیش کی جو اس نے اپنے ہاتھ سے بنی تھی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپ اسے اپنی ذات کے لئے استعمال فرمائیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ چادر پہن کر باہر تشریف لائے تو ایک شخص آگے بڑھا اور اس نے کہا یا رَسُولَ اللهِ ! یہ چادر مجھے دے دیجئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس چادر کی خود ضرورت تھی مگر آپ نے اس کے سوال کو رڈ کرنا مناسب نہ سمجھا اور فوراً واپس آکر اُسے چادر بھجوا دی۔لوگوں نے اسے ملامت کی کہ تم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ چادر کیوں مانگ لی؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اس کی خود ضرورت تھی۔اُس نے کہا میں نے یہ چادر اپنے کفن کے لئے لی ہے چنانچہ راوی کہتا ہے کہ بعد میں وہی چادر اس کا کفن بنی۔۹۰ غرباء کی دلداری اسی طرح ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں تشریف لے جا رہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ ایک غریب صحابی جو اتفاقی طور پر بدصورت بھی تھے سخت گرمی کے موسم میں اسباب اُٹھا رہے ہیں اور اُن کا تمام جسم پسینہ اور گردوغبار سے آٹا ہوا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی سے ان کے پیچھے چلے گئے اور جس طرح بچے کھیل میں چوری چھپے دوسرے کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر کہتے ہیں اور پھر چاہتے ہیں کہ وہ اندازہ سے بتائے کہ کس نے اُس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھا ہے اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی سے اُس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیئے۔اُس نے آپ کے ملائم ہاتھوں کو ٹول کر سمجھ لیا کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو محبت کے جوش میں اس نے اپنا پسینہ سے بھرا ہوا جسم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس کے ساتھ ملنا شروع کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے رہے اور آخر آپ نے فرمایا میرے پاس ایک غلام ہے کیا اس کا کوئی خریدار ہے اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! میرا اخریدار دنیا میں کون ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا ایسا مت کہو خدا کے حضور تمہاری بڑی قیمت ہے۔21 عورتوں کی تکلیف کا احساس ایک دفعہ آپ نے فرمایا جب میں نماز پڑھا تا ہوں تو بعض دفعہ میرا جی چاہتا ہے کہ میں نماز کو لمبا کروں مگر اچانک میرے کانوں میں کسی بچہ کے رونے کی آواز آجاتی ہے اس پر میں جلدی جلدی نماز