سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 900

سیر روحانی — Page 472

۴۷۲ وقت آگے بڑھنا ہلاکت کے منہ میں جانا ہے مگر آپ نے بڑے جوش سے فرمایا میرے گھوڑے کی باگ چھوڑ دو میں پیچھے نہیں ہٹ سکتا اور خود دشمن کی طرف یہ کہتے ہوئے آپ نے بڑھنا شروع کر دیا کہ :۔أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ میں خدا تعالیٰ کا سچا نبی ہوں اس کی طرف جھوٹی بات منسوب نہیں کر رہا لیکن میری اس کی وقت کی کیفیت کو دیکھ کر تم یہ خیال نہ کر لینا کہ میرے اندر کوئی خدائی طاقت پائی جاتی ہے میں ایک انسان ہوں اور عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔غرض اُن نازک گھڑیوں میں بھی جب اسلام کے جانباز سپاہی جو سارے عرب کو شکست دے چکے تھے بارہ ہزار کی تعداد میں ہوتے ہوئے ایک غیر متوقع حملہ کی تاب نہ لا کر اپنے پائے ثبات میں جنبش محسوس کر رہے تھے اور اُن کی سواریاں میدانِ جنگ سے بھاگ رہی تھیں، جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گر دصرف چند آدمی رہ گئے تھے جب ہر طرف سے دشمن بارش کی طرح تیر برسا رہے تھے ، آپ آگے ہی آگے بڑھتے چلے گئے کیونکہ آپ کو یقین تھا میرا خدا میرے ساتھ ہے اور وہ مجھے خود دشمن کے حملہ سے بچائے گا۔ایک حیرت انگیز واقعہ پھر اسی جنگ کا ایک اور حیرت انگیز واقعہ یہ ہے کہ مکہ کا ایک شخص جس کا نام شیبہ تھا اس جنگ میں صرف اس نیت اور ارادہ کے ساتھ شامل ہوا کہ موقع ملنے پر میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دونگا۔جب لڑائی تیز ہوئی تو وہ خود کہتا ہے کہ میں نے تلوار سونت لی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے ارادہ سے میں نے آپ کے قریب ہونا شروع کیا۔اُس وقت مجھے یوں معلوم ہوا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کا ایک شعلہ اُٹھ رہا ہے جو قریب ہے کہ مجھے جلا کر بھسم کر دے مگر پھر بھی میں آگے بڑھتا چلا گیا اُس وقت اچانک مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنائی دی کہ شیبہ! میرے پاس آؤ جب میں آپ کے قریب پہنچا تو آپ نے میرے سینہ پر اپنا ہاتھ پھیرا اور فرمایا اے خدا ! شیبہ کو شیطانی خیالات سے نجات دے۔شیبہ کہتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا تھا کہ یکدم میری تمام دشمنی دُور ہوگئی اور میرا دل آپ کی محبت اور پیار کے جذبات سے اس قدر لبریز ہو گیا کہ اُس وقت میرے دل میں سوائے اس کے اور کوئی خواہش نہ رہی کہ