سیر روحانی — Page 470
۴۷۰ اس قدر قریب پہنچ گیا کہ حضرت ابوبکر جو اس ہجرت میں آپ کے ساتھ شامل تھے گھبرا اُٹھے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! دشمن اس قدر قریب پہنچ چکا ہے کہ اگر وہ ذرا آگے بڑھ کر غار کے اندر جھانکے تو ہمیں پکڑنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے اطمینان سے فرماتے ہیں کہ اے ابو بکر ! گھبراتے کیوں ہو خدا ہمارے ساتھ ہے۔یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ ہمیں پکڑنے میں کامیاب ہو سکیں۔چنانچہ مکہ کے صنادید جس طرح رات کی تاریکی میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑنے میں ناکام و نا مرا د ر ہے ہیں اسی طرح وہ دن کی روشنی میں بھی آپ کی گرفتاری میں کامیاب نہ ہو سکے اور خدا نے بتا دیا کہ میں رات اور دن اس انسان کے ساتھ ہوں۔ممکن ہے اُن مکہ کے نوجوانوں میں بعض یہ کی خیال کرتے ہوں کہ چونکہ رات تھی اس لئے محمد رسول اللہ نکلنے میں کامیاب ہو گئے ، خدا اُن کو دن کے وقت غار ثور کے منہ پر لایا اور پھر اُن کی آنکھوں میں نا بینائی پیدا کر کے بتادیا کہ اس کا اصل باعث یہ نہیں کہ محمد رسول اللہ رات کی تاریکی میں نکل آئے تھے بلکہ اس کا اصل باعث یہ ہے کہ میں اس کا محافظ ہوں ورنہ دن کی روشنی میں اپنے کھوجیوں کی نشان دہی کے باوجود تم اسے پکڑنے میں کیوں کامیاب نہ ہو سکے۔سراقہ کا تعاقب پھر جب آپ مدینہ جا رہے تھے ایک دشمن آپ کے سر پر پہنچ گیا مگر الهی تصرف کے ماتحت اُس کے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور وہ گھٹنوں تک زمین میں دھنس گیا۔وہ پھر آگے بڑھا تو دوبارہ اس کے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور وہ پیٹ تک زمین میں پھنس گیا۔اس پر وہ گھبرا اُٹھا اور اُس نے سمجھا کہ یہ بلا وجہ نہیں ہوسکتا چنا نچہ یا تو وہ آپ کی گرفتاری کے ارادہ سے باہر نکلا تھا یا بجز اور انکسار کے ساتھ وہ آپ سے معافی کا طالب ہوا اور اُس نے کہا کہ آپ خدا تعالیٰ کے سچے نبی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ ایک دن ضرور غالب آکر رہیں گے۔۲۴ اس واقعہ پر غور کرو اور دیکھو کہ کس طرح قدم قدم پر خدا تعالیٰ نے آپ کی معجزانہ رنگ میں حفاظت فرمائی اور دشمن کو اپنے ناپاک عزائم میں نا کام رکھا۔الہی تصرف کے ماتحت دشمن کے ہاتھ سے تلوار گر جاتا اسی طرح غزوہ مطلقان سے واپسی کے موقع پر جبکہ آپ ایک درخت کے نیچے سو رہے تھے ایک دشمن آپ کو قتل کرنے کے ارادہ سے آپ کے