سیر روحانی — Page 455
۴۵۵ مشرکانہ عقائد کے پیرو بھی آج تو حید کو ہی درست سمجھتے ہیں پھر جوں جوں پھیلی شرک میتا گیا۔یورپ میں اب بھی ایسے گرجے موجود ہیں جن میں حضرت مریم اور حضرت عیسی کی تصویر لیکی ہوئی ہوتی ہے اور جن کے آگے وہ سجدے کیا کرتے تھے ، ہندوؤں میں بھی لاکھوں دیوتا تسلیم کئے جاتے تھے مگر اب دیکھو ہندوؤں میں جتنے نئے فرقے نکلے ہیں سب تو حید پیش کرتے ہیں آخر ہزاروں لاکھوں بُت جو ایجاد ہوئے ہیں تو ہر زمانہ میں ایجاد ہوتے رہے ہیں مگر اب کوئی نئی موومنٹ بتا دو جس میں کوئی نیابت ایجاد کیا گیا ہو۔اب آریہ سماجی نکلے، بنگال کی بر ہمو سماج نکلی ، اسی طرح بنگال کی دیویکا نند کی سوسائٹی ہے۔ٹیگورا تھا، غرض جتنے نکلے سب نے تو حید پیش کی اور کہا کہ ہمارے مذہب میں بہت ہیں ہی نہیں۔یہ سب باتیں ہیں۔یہ تو نتیجہ تھا اسلام کی تعلیم کا۔ادھر عیسائیت جو مسیح اور مریم کی خدائی کو پیش کیا کرتی تھی اب جس عیسائی سے پوچھو وہ کہتا ہے یہ تو ظہور ہیں۔ایک ظہور کا نام باپ رکھ دیا، ایک ظہور کا نام بیٹا رکھ دیا، ایک ظہور کا نام روح القدس رکھ دیا، ورنہ خدا تو ایک ہی ہے اس سے کون انکار کر سکتا ہے۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ جا اور شرک کو دنیا سے اُکھیڑ کر پھینک دے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کر دکھایا۔کہاں ہیں بہبل اور لات اور غز لی ؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھوڑے سے اُن کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔دلوں سے شرک کو نکال پھینکا اور وَالرُّجُزَ فَاهْجُرُ کے حکم کو ایسے طور پر پورا کیا کہ آج کسی شریف آدمی کو مجلس میں یہ کہنے کی جرات نہیں کہ خدا کے سوا کوئی اور بھی اُس کا شریک ہے۔یہ کتنا عظیم الشان تغیر ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدا کیا اور جس کی مثال دنیا کے کسی نبی کی زندگی میں بھی نہیں ملتی۔پس مبارک ہے وہ جس نے اپنے گورنر جنرل کے لئے یہ پروگرام تجویز کیا اور مبارک ہے خدا تعالیٰ کا یہ گورنر جنرل جس نے اس پروگرام کو اس طرح پورا کیا کہ جس طرح اسے پورا کرنے کا حق تھا۔چوتھے معنے اس کے یہ بنتے ہیں کہ تو شرک کو باندھ دے شرک کو باندھ رکھنے کا حکم یعنی با وجود اس کے کہ تو تو حید کی تعلیم دے گا لوگ مسلمان ہونگے اور شرک چھوڑتے چلے جائیں گے پھر بھی شرک دنیا میں قائم رہے گا کیونکہ شرک نفس کو عیاشی پر قائم رکھنے کی درمیانی سٹیج ہے۔جب تک انسانی نفس کے اندر کمزوری رہے گی وہ