سیر روحانی — Page 443
۴۴۳ قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وَثِيَابَكَ فَطَهِّرُ۔تو اُٹھ اور جا کر اپنی قوم کو سمجھا اپنے رشتہ داروں کو کے عمل سے تیاب کے معنوں کی تصدیق سمجھا، اپنے دوستوں اور عزیزوں کو سمجھا، چنانچہ ہم قرآن کریم میں اس کی تصدیق دیکھتے ہیں مثلاً بیویوں کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے۔هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمُ ۲۲ عورتیں تمہارا لباس ہیں۔اب دیکھ لو ان کو ثِيَاب بتایا گیا ہے پھر اسی آیت میں طَهَرُ کا لفظ آتا ہے اور قرآن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے متعلق یہی لفظ استعمال کرتا ہے، فرماتا ہے اِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمُ تَطْهِيرًا ۲۳۵ ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتدائے نبوت سے کہہ دیا تھا کہ جا اور اپنے خاندان کو پاک کر۔اب ہم تجھ کو کہتے ہیں کہ وہ جو ہم نے حکم دیا تھا اس کا ہم بھی پکا ارادہ کر چکے ہیں اور تیرے اہل وعیال کو پاکیزگی کے اعلیٰ مقام پر پہنچا کر چھوڑیں گے گویا وہ خبر اس جگہ آ کر بیان ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ ہم نے کہا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا لیکن ہم اسے خود پورا کرینگے کیونکہ ہم نبی کو جو کچھ کہا کرتے ہیں اس کی ذمہ داری ہم پر ہوتی ہے اسی طرح سورہ شعراء میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا گیا کہ۔وَاَنْذِرُ عَشِيْرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ ۲۴ یعنی اے محمد رسول اللہ ! تو اپنے قبیلہ میں سے قریبی رشتہ داروں کو جا کر ہوشیار کر۔پس ثیاب سے مراد اس جگہ وہی لوگ ہیں جو کپڑوں کی طرح ساتھ لیٹے ہوئے ہوتے ہیں اور سورۃ شعراء میں اسی لفظ کو دوسرے رنگ میں ادا کر کے اللہ تعالیٰ نے اس لفظ کے مجازاً ہونے کی تشریح کر دی اور بتا دیا کہ ہماری اس سے یہی مراد ہے کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو انذار قرآن پہنچا دے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات پر غور کرنے سے بھی انہی معنوں کی تصدیق ہوتی ہے چنانچہ بخاری کو نکال لو دوسری حدیثوں کو نکال لو ، جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلا الہام نازل ہوا تو سب سے پہلے آپ اپنے گھر گئے اور حضرت خدیجہ کو خبر دی کیونکہ ثِيَابَكَ فَطَهِّرُ کا حکم تھا کہ پہلے اسلام کی تعلیم اپنی بیوی اور رشتہ داروں کو دو پھر حضرت علی کو بتایا۔چنانچہ تاریخ صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے -