سیر روحانی — Page 439
۴۳۹ کہ رادھر تو ہمیں کفر کا فتویٰ دینے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے اور اُدھر قرآن میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کوئی لفظ استعمال ہو تو یہ ہمیشہ اس کے بُرے معنے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق لیتا ہے اور عیسی کی نسبت وہی لفظ آ جائے تو خیر۔معلوم نہیں عیسی اس کا کیا لگتا ہے کہ وہ ہمیشہ اس کے اچھے معنے کرتا ہے اور پھر بھی وہ مولوی کہلاتا ہے۔مد قمر کے معنی یہ درست ہے کہ مدثر کے ایک معنی کمبل اوڑھ کر سونے والے کے بھی ہیں مگر مدقر کے ایک اور معنی بھی ہیں جو اچھے ہیں اور اس کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق وہ نہیں سوجھتے اور وہ معنے ہیں :۔کپڑے پہن کر تیار ہو جانے والا اور گھوڑے کے پاس کھڑا ہونے والا کہ حکم ملتے ہی فوراً چھلانگ مار کر اس پر سوار ہو جائے۔یہ بھی لغت میں لکھے ہوئے ہیں۔چنانچہ بہار کے متعلق لکھا ہے کہ اس کے معنے ہیں اَلثَّوْبُ الَّذِي فَوقَ الشَّعَارِ یعنی دیار اس کپڑے کو کہتے ہیں جو گرتا وغیرہ کے اوپر پہنا جائے۔جب انسان نے باہر جانا ہوتا ہے تو وہ خالی گرتا نہیں پہنتا بلکہ کوٹ پہنتا ہے۔یا فوج والے لڑنے کے لئے جاتے ہیں تو وردی پہن لیتے ہیں، پس اس کے معنے یہ ہیں کہ محمد رسول اللہ نے وردی پہنی ہوئی ہے۔ان مفسرین کو یہ تو نظر آتا ہے کہ مدقر کے معنے کمبل اوڑھ کر سونے والے کے ہیں مگر یہ نظر نہیں آتا کہ اس کے ایک یہ معنے بھی ہیں کہ اے وردی پہن کر کھڑے ہونے والے انسان ! اسی طرح اس کے دوسرے معنے گھوڑے پر چھلانگ لگا کر چڑھنے والے کے ہیں تے گویا وہ اس بات کے انتظار میں کھڑا ہے کہ حکم ملے تو گھوڑے پر چھلانگ لگا کر سوار ہو جاؤں اور کام کے لئے دوڑ پڑوں۔اب ان معنوں کو دیکھو اور کمبل اوڑھ کر سور ہنے والے معنوں کو دیکھو کیا ان دونوں میں کوئی بھی نسبت ہے؟ کیا وہ دربار معلوم ہوتا ہے اور در بار بھی وہ جو محمد رسول اللہ کے تقرر کے لئے منعقد ہوا۔پیچھے مایوسی ہو جائے تو اور بات ہے لیکن یہاں تو ابتداء میں ہی نَعُوذُ بِاللهِ گالیاں شروع ہو جاتی ہیں کہ : - اوسونے والے! تیری کام کی طرف توجہ ہی نہیں ، میل سے بھرا ہوا ہے اُٹھ اور تیار ہو اور اپنے کام کی طرف جا اور ہر قسم کے سستی اور شرک وغیرہ کو چھوڑ۔