سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 900

سیر روحانی — Page 435

۴۳۵ یکھنے جاتے ہیں تو ہمیں کہا جاتا ہے کہ تم بھی درود پڑھوا اور سلام بھیجو۔اخلاص اور محبت کے نظارے کیا اخلاص اور کیسی کچی محبت اور کیسے بچے تعلق کا در بار ہے کہ جس پر ہر شخص اعتبار کر سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے کہ یہاں نہ میرے ساتھ غداری کی جائے گی ، نہ میرے دوستوں کے ساتھ غداری کی جائے گی ، نہ میرے ساتھیوں کے ساتھ غداری کی جائے گی ، اس دربار میں خالص سکہ ہے اور صرف اللہ تعالیٰ کی محبت کام کر رہی ہے۔دوسرا حصہ درباریوں کی برطرفی کا ہوتا ہے وہ میں بتا چکا ہوں کہ برطرفی اس دربار میں ہوتی ہی نہیں۔درباری ختم بھی ہو گیا مر گیا نوح کسی زمانہ میں پیدا ہوا اور ختم ہو گیا ، اس کی نسل کا بھی پتہ نہیں ، اس کی حکومت کوئی نہیں ، مذہب کوئی نہیں ، تعلیم کوئی نہیں لیکن مجال ہے جو نوح کو کوئی گالی دے سکے، جھٹ خدا کے فرشتے اُس کی گردن پکڑ لیتے ہیں کہ خدا کے گورنر کو گالی دی جا رہی ہے۔دربارِ خاص کی دوسری غرض دوسری غرض در بار خاص کی یہ ہوتی ہے کہ بادشاہ اپنے وزراء اور امراء کو خاص امور کے بارہ میں مشورہ دے اور بتائے کہ انہوں نے ان ان ہدایتوں کے ماتحت کام کرنا ہے تا کہ وہ اپنے فرائض کو صحیح طور پر ادا کر سکیں۔چنانچہ اب اس دربار کا ذکر کیا جاتا ہے جس میں عہدہ رسالت کی تفویض کے احکام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے گئے اور بتایا گیا کہ آپ نے دنیا میں کیا کرنا ہے اور کس طرح اپنے فرائض کو سرانجام دینا ہے۔دنیوی بادشاہوں کے مشوروں کی حقیقت ہم دیکھتے ہیں کہ دنیوی درباروں میں اوّل تو بادشاہ خود مشورہ کا محتاج ہوتا ہے اور پھر جو وہ مشورے دیتا ہے بالعموم غلط بھی ہوتے ہیں اور بعض اوقات اُن مشوروں سے وزراء کو اتفاق نہیں ہوتا اور بعض دفعہ وہ اُن پر عمل ہی نہیں کر سکتے اور سب کام خراب ہو جاتا ہے مگر یہ ایسا دربار ہے جس کا بادشاہ کسی کے مشورہ کا محتاج نہیں۔کامیابی کے متعلق تذبذب کی کیفیت پھر دنیوی دربارِ خاص میں بادشاہ ایک افسر کو بلاتا ہے تو اس سے کہتا ہے کہ ہم تمہاری وفا داری پر یقین کر کے تم کو فلاں عہدہ پر مقرر کرتے ہیں امید ہے تم ہمارے اعتبار کے اہل ثابت ہو گے تم فلاں فلاں کام دیانتداری سے کرو اور اگر تم اس میں کامیاب ہو جاؤ گے تو