سیر روحانی — Page 421
۴۲۱ بڑا ہے تو بڑے نے چھوٹے پر کیا حسد کرنا ہے وہ بھی برداشت نہیں کر سکتا کہ کسی چھوٹے کی ہتک ہو جائے یا اس کی کسی رنگ میں تنقیص کی جائے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان جن کے مقابلہ میں موسیٰ کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتے تھے ، جن کے مقابلہ میں ابراہیم کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتے تھے، جن کے مقابلہ میں نوح کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے ، ان موسی" اور ابراہیم اور نوح سے کم درجہ رکھنے والوں اور موسیٰ کے ماتحت نبیوں میں سے ایک یونس نبی ہیں کوئی یہودی کسی جھگڑے میں کہہ دیتا ہے کہ یونس بڑا آدمی تھا مسلمان آگے سے کہہ دیتا ہے محمد رسول اللہ کے مقابلہ میں یونس کی کیا حقیقت ہے۔اب بجائے اس کے کہ دربارِ خاص کا آدمی خوش ہو کہ میری عزت کی گئی ہے جب اس کو خبر پہنچتی ہے تو اس کا چہرہ سرخ ہو جاتا ہے اور وہ کہتا ہے۔لَا تُفَضِّلُونِي عَلَى يُونُسَ ابْنِ مَتَى ! یونس ابن منشی پر مجھے فضیلت نہ دیا کرو حالانکہ فضیلت ہے لیکن کسی در باری کی وہ ہتک برداشت نہیں کرتا وہ کہتا ہے چاہے وہ چھوٹا ہی سہی پر تم نے کیوں اس کو چھوٹا کہا ؟ تمہارا کام یہی ہے کہ اس کی عزت کرو کیونکہ وہ خدا کے درباریوں میں سے ہے۔ابوالبشر آدم کی پیدائش پر دربار خاص کا انعقاد اب میں ایک در بار خاص کا ذکر کرتا ہوں جو قرآن کریم نے بیان کیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَعَلَّمَ ادَمَ الْاَسْمَاءَ كُلَّهَاثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَئِكَةِ فَقَالَ اَنْبِتُونِي بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ إِنْ كُنتُم صّدِقِيْنَ۔قَالُوا سُبُحْنَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ط اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ۔قَالَ يَادَمُ اَنْبِتُهُمُ بِأَسْمَائِهِمْ ، فَلَمَّا أَنْبَا هُمْ بِا سُمَائِهِمْ قَالَ اَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّى أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنتُمْ تَكْتُمُون۔فرمایا در بارشاہی لگا اور ملائکہ جمع ہوئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک خاص مقام ایک شخص کو عطا کیا تھا جس کی توثیق کی جانی تھی اور جس کے متعلق اس دربار میں آخری اعلان کرنا تھا۔وہ مقام ابوالبشر آدم کے لئے تجویز کیا گیا تھا جسے عالم انسانی میں جلوہ الہی کی ایک نئی تجلی کے ظاہر کرنے کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ملائکہ نے اس بات کی ابتدائی خبر سن کر کہا کہ ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ اس انسان کی ضرورت کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم تمہیں اس کی ضرورت عملی طور پر دکھا دینگے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے وہ تمام تجلیات جن کو وہ نئی شکل میں دکھانا چاہتا تھا آدم کے اندر ودیعت کر دیں اور پھر آدم کو ان کے سامنے بلایا اور وہ تجلیات اس میں سے ظاہر ہوئیں جس طرح