سیر روحانی — Page 414
۴۱۴ اور بیویوں سے بالکل آزاد تھا اس لئے یہاں اس قسم کے جوڑ توڑ کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔نہ اس بات کا کوئی سوال تھا کہ درباریوں کی محبت اور درباریوں کے اخلاص کو بانٹنے والے لوگ دنیا میں موجود ہیں اور نہ اس بات کا کوئی سوال تھا کہ وہ بیٹھا ہو ا مخاطب ہم سے ہے اور غرض یہ ہے کہ ہم سے کام لے کر اپنے بیٹے کی عزت بڑھائے۔اس دربار میں وہ جو بھی عزت دیتا تھا وہ ہمارے لئے ہی ہوتی تھی کوئی اور اس کو نہیں چھین سکتا تھا، چنانچہ قرآن کریم اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی لَم يَتَّخِذُوَلَدًا وَّلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكَ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَكَبِّرُهُ تَكْبِيرًا ل خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور حمد کا گہرا تعلق دیکھو شرک ایک بڑی اہم چیز ہے اور تمام اسلام کی بنیاد اس کے رڈ پر ہے،۔تمام مذاہب کی بنیاد اس کے رڈ پر ہے مگر سوال تو یہ ہے کہ شرک کی تردید کے ساتھ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ کا کیا تعلق ہے؟ الْحَمدُ لِلهِ تو انسان اسی صورت میں کہہ سکتا ہے جب اس کا نتیجہ ہمارے ساتھ تعلق رکھتا ہو۔اگر ایک خدا ہونے سے ہمیں کوئی خاص فائدہ پہنچتا ہے تو پھر بے شک ہم کہیں گے الْحَمْدُ لِلهِ خدا ایک ہے ورنہ جہاں تک خدا کے ایک ہونے کا سوال ہے یہ ایک صداقت ہے جسے ماننا پڑتا ہے مثلاً سورج ایک ہے کہنا پڑتا ہے کہ ایک ہے۔سامنے پہاڑ ہو ماننا پڑے گا کہ پہاڑ ہے مگر یہ تو نہیں کہیں گے کہ الْحَمْدُ لِلہ یہ پہاڑ ہے کیونکہ ہمارے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں لیکن اگر ہمیں گرمی لگ رہی ہو اور اُس وقت ٹھنڈی ہوا چل پڑے تو ہم کہیں گے اَلْحَمْدُ لِلَّهِ اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ ہم خالی ہوا کے چلنے پر اَلْحَمْدُ لِلهِ کہہ رہے ہیں بلکہ ہم ہوا کے اُس اثر پر اَلْحَمْدُ لِلَّهِ کہتے ہیں جو ہم پر پڑتا ہے اسی طرح یہاں فرماتا ہے۔وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى لَمْ يَتَّخِذُ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكَ فِي الْمُلْكِ شکر ہے خدا کا جس کا نہ کوئی بیٹا ہے نہ بیوی نہیں تو ہمارے دربارِ خاص کا بھی وہی حال ہوتا جو ڈ نیوی درباروں کا ہوتا ہے کہ قربانیاں ہم کرتے اور بادشاہ کہتا کہ بیٹے صاحب کو تخت دے دیا جائے یا بیوی صاحبہ کی خوشامد کرنی پڑتی جیسے کسی شاعر نے کہا ہے۔تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں مرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا