سیر روحانی — Page 400
۴۰۰ وہ آئے اور ہمارے دربار میں فریاد کرے مگر دنیا میں لوگ اگر فریاد کرنا بھی چاہیں تو نہیں کر سکتے افسران سے کہتے ہیں کہ اگر تم نے ہمارے خلاف شکایت کی تو ہم تمہاری زبان گُڈی سے کھینچ لینگے۔وہ ڈرتا ہے کہ اگر میں نے فریاد کی تو بعد میں وہی افسر مجھے اور رنگ میں مصیبتوں میں مبتلاء کر دیں گے۔مگر یہاں یہ حالت ہے کہ رات کی تاریکی سایہ ڈالے ہوئے ہے، مصیبت زدہ بندہ اپنے لحاف میں پڑا آہیں بھر رہا ہے، دنیا کا کوئی فرد نہیں جانتا کہ وہ کیا کر رہا ہے یا کیا کہہ رہا ہے۔کوئی افسر اسے دھمکا نہیں سکتا، کوئی افسر ا سے فریاد سے روک نہیں سکتا وہ لحاف میں لیٹے لیٹے خدا تعالیٰ کے دربار میں اپنی آواز بلند کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اے خدا! فلاں نے مجھ پر ظلم کیا ہے تو میری طرف سے آپ اس کا بدلہ لے۔ظالم نہیں جانتا کہ اس کے خلاف با دشاہ تک شکایت پہنچ چکی ہے، وہ نہ سنتا ہے، نہ دیکھتا نہ اس کے دل پر کوئی خیال گزرتا ہے مگر مظلوم کی فریاد خدا تعالیٰ کے عرش کو ہلا دیتی ہے۔وہ فرماتا ہے اَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ جب وہ اکیلے خدا تعالیٰ کے حضور مضطر ہو کر فریاد کرتا ہے۔جب کوئی اس کے پاس نہیں ہوتا ، اس وقت کون اس کی مدد کے لئے آتا ہے۔دنیا غافل ہوتی ہے مگر خدا اپنے بندے کی مدد سے غافل نہیں ہوتا وہ خود آتا ہے اور کہتا ہے اے میرے بندے! میں تیری مدد کو آ گیا ہوں اور پھر اس سے ایسی محبت اور پیار کا سلوک کرتا ہے کہ اُس کا ہر دکھ دُور ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کی عطاء کا بیمثال نمونہ دیوانِ عام کی چوتھی غرض یہ ہوتی ہے کہ لوگ بادشاہ کے سامنے اپنے مطالبات پیش کریں مگر ظاہر ہے کہ ہر شخص نہ دربار عام میں پہنچ سکتا ہے اور نہ بادشاہ اتنا وقت دے سکتا ہے۔دس بیس کروڑ رعایا ہو تو بادشاہ کے پاس اتنا وقت کہاں ہو سکتا ہے کہ وہ ہر ایک کے مطالبہ کو سُنے اور اس کے بارہ میں ضروری کارروائی کرے۔پھر اگر مطالبات پیش کرنے کا موقع بھی ملے تو جو کچھ دل میں ہوتا ہے وہ سب کچھ انسان مانگ نہیں سکتا۔اول تو وہ اس بات سے ڈرتا ہے کہ کہیں افسر خفا نہ ہو جائے اور پھر انہیں یہ بھی ڈر ہوتا ہے کہ اگر ہم نے اپنے دل کی بات کہہ دی تو نہ معلوم بادشاہ اس کو مانے یا نہ مانے مگر اس الہی دربار کی عجیب شان ہے اس دربار عام کے بارہ میں فرماتا ہے يَسْئَلُهُ مَنْ فِى السَّمَوَاتِ وَ الْأَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ۲۳