سیر روحانی — Page 391
۳۹۱ شریک ہو سکتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی رضا آپ کو حاصل ہو سکتی ہے۔میں نے اس موضوع پر ان کے سامنے پندرہ بیس منٹ تقریر کی اور میں نے دیکھا کہ ان سندھیوں کا لیڈر جو چانڈیہ قوم کے ساتھ تعلق رکھتا تھا سر ہلاتا چلا جاتا تھا جس سے میں نے یہ سمجھا کہ اس پر خوب اثر ہو رہا ہے مگر پندرہ نہیں منٹ کے بعد جب میں تقریر ختم کر چکا تو ان سندھیوں کا سردار کہنے لگا سائیں! جے ڈھور ڈنگر نے کھیتی نہیں کھانی تے پھر بنی پوکھنی ہی کیوں ہے؟ یعنی اگر جانوروں نے فصل نہیں کھانی تو پھر ہمیں فصل بونے کی ضرورت ہی کیا ہے۔تو اللہ تعالیٰ اگر ان کی روزی انسان پر چھوڑ دیتا تو انہوں نے تو مر جانا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کا رزق اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔اس نے دیکھا کہ جانور کی محنت زیادہ ہے اور تمہاری کم ہے، ان کا پیٹ بڑا ہے اور تمہارا پیٹ چھوٹا ہے اس لئے اس نے تمہارے لئے تو دانے بنائے اور ان کے لئے بھوسہ بنا دیا۔دانے اس نے کم بنائے اور بھوسہ اس نے زیادہ بنایا کیونکہ عَلَی اللَّهِ رِزْقُهَا ان جانوروں کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمہ تھا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر قسم کے رزق کی فراوانی پھر بنی نوع انسان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَاءَ بِنَاءً وَّ صَوَّرَ كُمْ فَاحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبَتِ ذلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ فَتَبَرَكَ اللهُ رَبُّ الْعَلَمِينَ ٣٣ یعنی تمہارا خدا وہ ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو تمہارے لئے چھت کے طور پر بنایا ہے پھر اس نے تم کو کام کرنے کی قابلیت عطا فرمائی ہے فَاحْسَنَ صُوَرَ كُمُ اور قابلیت بھی بہت اعلیٰ درجہ کی پیدا کی ہے۔اس جگہ صورت کے معنی ناک، کان ، منہ اور آنکھیں وغیرہ نہیں کیونکہ جب خدا تعالیٰ نے انسان کو بنایا، تو تمام اعضاء اُس نے اُسی وقت بنا دیئے تھے۔اس جگہ صورت سے مراد وہ قوتیں اور قابلیتیں ہیں جو بنی نوع انسان میں رکھی گئیں اور جن سے وہ دنیا میں بہت بڑی ترقیات حاصل کرتا ہے۔وَ رَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَتِ پھر اُس نے نہایت اعلیٰ درجہ کی چیزیں جو تمہارے جسم کے مناسب حال ہیں تمہارے لئے پیدا کیں۔مثلاً زبان خواہش رکھتی ہے کہ وہ میٹھا کھائے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے میٹھا پیدا کر دیا یا زبان چاہتی ہے کہ اسے نمک مرچ اور کباب ملیں تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے نمک مرچ اور کباب پیدا کر دیئے۔یا مثلاً زبان چاہتی ہے کہ اسے کھانے کے لئے چاول ملیں تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے