سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 900

سیر روحانی — Page 388

۳۸۸ کہ یکدم جاگتے جاگتے میں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ بچوں کی طرح دوڑتا ہوا آیا اور وہ میر کندھے ہلا کر کہتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں یہ سنکر میرے دل میں عجیب کیفیت ہوگئی کہ میرے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی یہ حالت ہے کہ آپ میری تکلیف کا حال سُن کر برداشت نہیں کر سکے اور آپ خود میری دلجوئی کے لئے تشریف لائے ہیں۔تب میں نے کہا یہ فتنہ لغو ہے اور میں آرام سے سو گیا۔غرض اللہ تعالیٰ کے دروازے ہر شخص کے لئے گھلے ہیں اور جو بھی چاہے وہ ان دروازوں سے گزر کر اپنے مقصد کو حاصل کر سکتا ہے۔روحانی اور مادی علوم کے متلاشیوں کو خوشخبری یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ تو دیدار الہی کے رستوں کا ذکر ہے ظاہری اور باطنی علوم کے عطا کئے جانے کا اللہ تعالیٰ نے کہاں وعدہ کیا ہے۔سو یا د رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف روحانی علوم کے متلاشیوں کو ہی سیر نہیں کیا بلکہ وہ علوم جسمانی اور روحانی دونوں کے متلاشیوں کو خوشخبری دیتا ہے کہ میرے دربار میں آؤ اور اپنے دامن کو گوہر مقصود سے بھر لو وہ فرماتا ہے وَهَدَيْنَهُ النَّجْدَينِ ال ہم نے انسان کے لئے دونوں علوم کے راستے کھول دیئے ہیں۔ہم نے خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا رستہ بھی اس کے لئے کھول رکھا ہے اور ہم نے علوم جسمانی میں کمال حاصل کرنے کا رستہ بھی اس کے لئے کھول رکھا ہے۔یہ الگ سوال ہے کہ دنیا میں کتنے لوگ ہیں جو اس راستہ پر چل کر علوم حاصل کرتے ہیں۔اصل چیز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے راستہ کھول دیا ہے اور ہر انسان کے لئے ان علوم کے حاصل کرنے کا موقع موجود ہے اگر وہ حاصل نہیں کرتے تو اس میں ان کا اپنا قصور ہے۔دنیا میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ سب لوگ کتابیں ایک جیسی پڑھتے ہیں یہ نہیں ہوتا کہ سکولوں اور کالجوں میں بعض لڑکوں کو اور کتابیں پڑھائی جاتی ہوں اور بعض کو اور مگر ایک تو سائنس میں ترقی کرتے کرتے انتہائی کمال حاصل کر لیتا ہے اور دوسرا ابھی سائنس کے دروازے پر ہی بیٹھا ہوتا ہے۔ایک اپنی زندگی میں سینکڑوں مفید ایجادات کر لیتا ہے اور دنیا میں چاروں طرف شور مچ جاتا ہے کہ ایڈیسن بڑا موجد ہے مگر دوسرا کوئی ایک چیز بھی ایجاد نہیں کرتا۔اللہ تعالٰی نے هَدَيْنَهُ النَّجْدَيْنِ میں جس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے قابلیتیں تمام انسانوں میں پیدا کر دی گئی ہیں اگر وہ ان قابلیتوں سے کام لیں تو وہ علومِ ظاہری اور باطنی دونوں میں کمال