سیر روحانی — Page 386
۳۸۶ اور وہ لوگ جو اپنے دل میں ہمارا عشق رکھیں گے، جو ہماری طرف محبت اور پیار کے ساتھ رجوع کریں گے ہم اپنے علم کے دروازے اُن پر کھول دیں گے، نہ اس میں کتابیں خریدنے کی ضرورت ہے نہ قلم اور دوات کی ضرورت ہے، نہ کاغذ کی ضرورت ہے ، نہ مدرسوں کی ضرورت ہے، نہ محنت و خوشامد کی ضرورت ہے، نہ فیس دینے کی ضرورت ہے، نہ گھر سے باہر جانے کی ضرورت ہے۔ہر دل میں ایک یونیورسٹی بنا دی گئی ہے ، ہر قلب میں علوم کے چشمے پھوڑ دیئے گئے ہیں۔تمہارا کام صرف اتنا ہے کہ تم ہماری طرف متوجہ ہو کر یہ کہو کہ الہی ! مجھے فلاں فلاں چیز کی ضرورت ہے اور ہم وہ چیزیں تمہیں دے دیں گے۔ایک بزرگ کا واقعہ ایک بزرگ کا واقعہ لکھا ہے کہ ایک دفعہ ان کی طرف سرکاری سمن آیا جس میں یہ لکھا تھا کہ آپ پر بعض لوگوں کی طرف سے ایک الزام لگایا گیا ہے اس کی جواب دہی کے لئے آپ فوراً حکومت کے سامنے حاضر ہوں۔وہ یہ کہ به سنکر حیران رہ گئے کیونکہ وہ ہمیشہ ذکر الہی میں مشغول رہتے تھے مگر چونکہ سرکاری سمن تھا وہ چل پڑے۔دس بیس میں گئے ہوں گے کہ آندھی آئی ، اندھیرا چھا گیا ، آسمان پر بادل امڈ آئے اور بارش شروع ہو گئی ، وہ اُس وقت ایک جنگل میں سے گزر رہے تھے جس میں دُور دُور تک آبادی کا کوئی نشان تک نہ تھا۔صرف چند جھونپڑیاں اُس جنگل میں نظر آئیں وہ ایک جھونپڑی کے قریب پہنچے اور آواز دی کہ اگر اجازت ہو تو اندر آ جاؤں۔اندر سے آواز آئی کہ آجائیے۔انہوں نے گھوڑا باہر باندھا اور اندر چلے گئے۔دیکھا تو ایک اپاہج شخص چار پائی پر پڑا ہے اُس نے محبت اور پیار کے ساتھ انہیں اپنے پاس بٹھا لیا اور پوچھا کہ آپ کا کیا نام ہے اور آپ کس ނ جگہ سے تشریف لا رہے ہیں؟ انہوں نے اپنا نام بتایا اور ساتھ ہی کہا کہ بادشاہ کی طرف مجھے ایک سمن پہنچا ہے جس کی تعمیل کے لئے میں جا رہا ہوں اور میں حیران ہوں کہ مجھے یہ سمن کیوں آیا کیونکہ میں نے کبھی دنیوی جھگڑوں میں دخل نہیں دیا۔وہ یہ واقعہ سنکر کہنے لگا کہ آپ گھبرائیں نہیں ، یہ سامان اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے پاس پہنچانے کے لئے کیا ہے۔میں اپانجو ہوں، رات دن چار پائی پر پڑا رہتا ہوں، مجھ میں چلنے کی طاقت نہیں لیکن میں نے اپنے دوستوں سے آپ کا کئی بار ذکر سنا اور آپ کی بزرگی کی شہرت میرے کانوں تک پہنچی۔میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعائیں کیا کرتا تھا کہ یا اللہ ! قسمت والے تو وہاں چلے جاتے ہیں میں غریب مسکین اور عاجز انسان اس بزرگ کے قدموں تک کس طرح پہنچ سکتا ہوں تو اپنے فضل