سیر روحانی — Page 379
۳۷۹ جس کو خدا تعالیٰ نے اپنا گورنر جنرل مقرر کر کے بھیجا، وہ انسان جسے اس نے اس دنیا میں خلیفہ اللہ بنا کر بھیجا اور ایسا خلیفہ اللہ بنا کر بھیجا ہے جس پر اُس نے وہ کامل قانون نازل کیا جس کے متعلق وہ خود کہتا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اس قانون کی مثال تیار کرنے پر قادر نہیں ہو سکتی اور ایسا آئین نازل کیا جو انسانی فطرت کے عین مطابق ہے، اتنے بلند ترین مقام کا انسان اپنی وفات کے قریب صحابہ سے کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے دنیا میں انصاف قائم کرنے کے لئے بھیجا تھا میں نے اس دنیا میں اُس کی رضا اور خوشنودی کے لئے اُس کے احکام کو جاری کیا ہے با ہے لیکن ممکن ہے اس جدو جہد میں مجھ سے کبھی کوئی غلطی ہو گئی ہو اور میں نے دوسرے کا حق مارلیا ہو اے میرے صحابہ ! تمہاری وفاداری یہ ہوگی کہ اگر میں نے غلطی سے کسی کا حق مارلیا ہے تو وہ اپنا بدلہ آج مجھ سے لے لے تا قیامت کے دن خدا تعالیٰ مجھ سے اس غلطی کا بدلہ نہ لے۔کیا دنیا کا کوئی گورنر جنرل ایسا ہے؟ کیا دنیا میں کوئی ماں کا بیٹا ایسا ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑایا آپ کے برابر ہی ہو؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہو سکتا ہے مجھ سے کبھی کوئی غلطی ہوگئی ہو اور اگر ایسا ہو گیا ہو تو مجھ سے بدلہ لے سکتے ہو۔۔دردناک منظر تم سمجھ سکتے ہو کہ وہ عشاق، وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فریفتہ اور شیدائی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کی خاک بھی اپنے لئے اکسیر سمجھتے تھے اُن کا اِس فقرہ کو سنکر کیا حال ہوا ہوگا اور اُن کے دل پر اُس وقت کیا گزری ہوگی۔تم اپنی حیثیت پر قیاس کرتے ہوئے اندازہ لگا سکتے ہو کہ ان کے دل پھٹ گئے ہوں گے، ان کے جسم پر لرزہ طاری ہو گیا ہوگا کہ ہمارا وہ آقا جو گند تلوار سے بھی اگر ہماری گردنیں کاٹ ڈالے تو ہم یہ سمجھیں گے کہ اس سے زیادہ ہم پر کوئی احسان نہیں وہ کہتا ہے کہ اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہو تو آج مجھ سے بدلہ لے لو۔مجمع پر خاموشی طاری تھی کہ ایک صحابی اُٹھے اور انہوں نے کہايَا رَسُولَ اللہ ! مجھے آپ سے ایک تکلیف پہنچی ہے فلاں لڑائی کے موقع پر جب آپ صفیں ٹھیک کر رہے تھے ایک صف کو چیر کر آپ آگے آئے تو اس وقت آپ کی گہنی میری پیٹھ پر لگی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجھے گہنی مار کر اس کا بدلہ لے لو۔تم سمجھ سکتے ہو کہ اُس وقت صحابہ کرام کا کیا حال ہوا ہوگا۔یقیناً اُن کی تلواریں میانوں سے نکل رہی ہوں گی یقیناً وہ اُس کی تکہ بوٹی کر دینے کے لئے تیار ہوں گے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رُعب انہیں کچھ کرنے نہیں دیتا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آؤ اور مجھے کہنی مارلو۔اس