سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 900

سیر روحانی — Page 374

۳۷۴ کے احکام کی خلاف ورزی کریں گے اُن کو یہ یہ سزائیں دی جائیں گی۔ہم دیکھتے ہیں کہ آیا اس روحانی دربار عام میں بھی کوئی ایسا اعلان کیا گیا ہے یا نہیں ؟ اس نقطہ نگاہ سے جب ہم اس دربار عام پر نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں باغیوں کے بارہ میں یہ اعلان سنائی دیتا ہے کہ لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِى الْبِلادِ - مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ وا فرماتا ہے ہمارے دشمن دنیوی طور پر بڑی بڑی طاقتیں رکھتے ہیں اور ہم نے ان کی طاقتیں چھینی بھی نہیں کیونکہ ہم نے کہدیا ہے کہ كُلًّا نُمِدُّ هَؤُلَاءِ وَ هَؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَ مَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا۔یعنی ہمارا قانون یہ ہے کہ ہم اس مادی دنیا میں مؤمنوں کی بھی مدد کیا کرتے ہیں اور کافروں کی بھی مدد کیا کرتے ہیں لیکن باوجود اس کے ہمارا فیصلہ یہ ہے کہ ہم نے ان بغاوت کرنے والوں کو تباہ و برباد کر دینا ہے وہ ہماری مخالفت میں لوگوں کو بیشک اُکسائیں، بیشک ان کو اشتعال دلائیں ، بیشک ان کے خیالات کو بگاڑنے کی کوشش کریں نتیجہ یہی ہوگا کہ یہ مخالفت کر نیوالے مٹ جائیں گے اور دُنیا پر ہماری تعلیم غالب ہو کر رہے گی۔مخالف تدابیر کر نیوالے ہلاک کئے جائیں گے اسی طرح فرماتا ہے وَأَقْسَمُوا باللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِنُ جَاءَ هُمُ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَى مِنْ إِحدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَ هُمْ نَذِيرٌ مَّازَادَ هُمْ إِلَّا نُفُورًا - نِ اسْتِكْبَارًا فِي الْأَرْضِ وَ مَكْرَ السَّيِّئَ وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئَءُ إِلَّا بِأَهْلِهِ فَهَلْ يَنْظُرُوْنَ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَبْدِيلًا - وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا۔یہ بڑے بڑے دشمن جو ہماری حکومت کے مخالف ہیں قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر ان کے پاس خدا تعالیٰ کا کوئی رسول آجائے تو وہ پہلی قوموں یعنی موسوی اور عیسوی سلسلہ سے بھی بہتر ہو جائیں گے فَلَمَّا جَاءَ هُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمُ إِلَّا نُفُورًا مگر جب خدا تعالیٰ کا ایک نذیران کے پاس آ گیا تو اب یہ اس کی مخالفت پر آمادہ ہو گئے اور اس کی حکومت کا جوا اُٹھانے کے لئے تیار نہیں ہوتے کیونکہ انہوں نے نمبر داریاں سنبھالی ہوئی تھیں اور اعلیٰ اور بلند اخلاق کے عادی نہیں تھے۔وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئَءُ إِلَّا بِأَهْلِهِ مَگر ہمیں اس بارہ میں کسی دوسرے کی مدد کی ضرورت نہیں بدی خود اُس کے سر پر پڑا کرتی ہے جو اس میں مبتلاء