سیر روحانی — Page 373
کوئی تعلق ہوتا ہے اور نہ انصاف کے ساتھ کوئی تعلق ہوتا ہے۔جتنے خطاب لینے والے ہوتے ہیں اگر ان کے حالات پر غور کر کے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ انہیں خطاب محض اس وجہ سے دیئے گئے ہیں کہ وہ افسروں کو شکار کھلاتے رہے ہیں یا مُرغابیاں مار مار کر ان کے لئے لاتے رہے ہیں۔ایک ذیلدار کا واقعہ مجھے یاد ہے ہمارے ہاں ایک ڈپٹی کمشنر آیا وہ کچھ پاگل سا تھا مگر اُسے شکار کا بہت شوق تھا۔ذیلدار صاحب اسے اپنے ساتھ شکار کے لئے لے گئے۔چلتے چلتے اسے دور سے کچھ بطخیں نظر آ ئیں جو تالاب میں پھر رہی تھیں اس نے سمجھا کہ مرغابیاں ہیں ذیلدار سے کہنے لگا کہ دیکھو! وہ کیسی اچھی مرغا بیاں ہیں، ذیلدار کو معلوم تھا کہ یہ مرغا بیاں نہیں بطخیں ہیں مگر ڈپٹی کمشنر کے کہنے پر اُس نے بھی کہنا شروع کر دیا کہ بڑی اچھی مرغابیاں ہیں اُس نے فائر کیا جس سے ایک بلخ مرگئی۔اب وہ شخص جس کی بطخ ماری گئی تھی وہ بھی ساتھ تھا مگر ڈر کے مارے وہ بھی اس کی تعریف کرتا چلا جاتا تھا اور کہتا جاتا تھا کہ صاحب! ایسی مرغابی تو بہت کم آتی ہے۔کچھ دیر کے بعد وہ خود بھی سمجھ گیا کہ یہ مُرغابی نہیں بطخ تھی اور اُس نے پانچ روپے نکال کر بطخ والے کو دیئے کہ یہ لے لو مگر وہ بار بار یہی کہتا چلا جاتا تھا کہ آپ پانچ روپے کیوں دیتے ہیں یہ مرغابی ہی تھی۔یہ تو خطاب لینے والوں کا حال تھا کہ اول تو جو انہیں خطاب ملتے تھے وہ انصاف کے خلاف ہوتے تھے یعنی محض خوشامد یا افسروں کی تعریفیں کرنے پر انہیں خطاب مل جاتے تھے اور پھر خطاب جھوٹے ہوتے تھے ان کا حقیقت کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں ہوتا تھا اسی طرح اگر زمین ملتی تھی تو وہ عارضی ہوتی تھی اور اگر مال ملتا تھا تو وہ کھویا جانے والا ہوتا تھا مگر یہاں یہ اعلان ہوتا ہے کہ اگر تم اس گورنر کی اطاعت کرو گے تو بادشاہ کے محبوب بن جاؤ گے فرماتا ہے قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله اگر تم خدا تعالیٰ کے محبوب بننا چاہتے ہو تو میری اتباع کرو اور میری اتباع کے یہ معنے ہیں کہ جس شخص کی اتباع کرنی ہے وہ اِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ کا مصداق ہے۔تمام الشان اخلاق اور تمام اعلیٰ قسم کی خوبیاں اور کیریکٹر اس میں موجود ہیں۔پس فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله کے یہ معنے ہوئے کہ تم بھی تمام اعلیٰ درجہ کے اخلاق اور خوبیاں اپنے اندر پیدا کرو ، تب خدا تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگ جائے گا۔بغاوت کرنے والوں کے متعلق اعلان (۵) پھر دنیوی بادشاہ یہ بھی اعلان کیا کرتے ہیں کہ جو لوگ بغاوت کریں گے اور حکومت