سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 900

سیر روحانی — Page 371

۳۷۱ یہ آٹھ خوبیاں اُس قانون کی بتائی گئی ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ آٹھ خو بیوں والا کلام علیہ وسلم کو دیا گیا اور جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے دربار عام میں اعلان کیا۔دُنیوی حکومتوں کی تعزیرات میں تو سزائیں ہی سزائیں ہوتی ہیں مگر یہ قانون بشارات پر بھی مشتمل ہے اور انذار پر بھی مشتمل ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم تمہارے سامنے ایک ایسی چیز پیش کر رہے ہیں جو آٹھ خوبیاں اپنے اندر رکھنے والی ہے وہ اَحْسَنَ الْحَدِيث ہے وہ کتاب ہے وہ مُتَشَابِہ ہے یعنی فطرت کے مطابق ہے اور نیز پہلی کتابوں کی تعلیم کے مقابلہ میں برتر تعلیم دیتی ہے اور پھر وہ مَثَانِی ہے اور مَثَانِی کے چار معنے بتائے جاچکے ہیں گویا یہ آٹھ خوبیوں والا قانون ہے جس کے نفاذ کا ہم اپنے دیوانِ عام میں اعلان کرتے ہیں۔الہی عظمت اور محبت کا پُر کیف نظارہ پھر فرماتا ہے تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ و قُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللهِ۔یہ ایسی عجیب تعلیم ہے کہ جس وقت انسان اسے پڑھتا ہے تو پہلے اس کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ کانپنے لگ جاتا ہے مگر پھر جب وہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور اُس کے پیار کا مشاہدہ کرتا ہے تو اُسے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اُس کی سزائیں بھی محبت اور پیار کا رنگ رکھتی ہیں۔وہ سزا دیتا ہے تب بھی پیار کے طور پر اور اگر ڈانٹتا ہے تب بھی پیار کے طور پر۔جب مؤمن اس بات کو سوچتے ہیں تو تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ ان کی جلد میں نرم ہو جاتی ہیں اور ان کے دل اللہ تعالیٰ کی طرف اس طرح کھچے چلے جاتے ہیں کہ وہ سیدھے خدا تعالیٰ کے دربار میں پہنچ جاتے ہیں اور اسے کہتے ہیں اے ہمارے ربّ! تیری مار بھی پیاری ہے اور تیرا پیار بھی پیارا ہے۔یہ کتنا عظیم الشان اعلان ہے جو اسلام کے دیوانِ عام سے کیا گیا ہے کیا دنیا کی کوئی حکومت اس اعلان کا مقابلہ کر سکتی ہے؟ قانونِ الہی کی اتباع کرنے اور نہ کرنے والوں سے سلوک پھر وہ بتاتا ہے کہ جو لوگ ہمارے اس قانون پر عمل کریں گے اُن سے ہمارا کیا سلوک ہوگا فرماتا ہے قُل اِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ الله فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ) ڈ نیوی گورنمنٹیں دربار عام سے اعلان کرتی ہیں تو کہتی ہیں کہ دیکھو تم ہمارے قانون کی پابندی کرو گے تو جیل خانوں سے بچ جاؤ گے، تمہیں بڑے بڑے خطاب دیئے جائیں گے،