سیر روحانی — Page 369
۳۶۹ دوسری عورتوں کو تعلیم دیں اور ان کی تنظیم کا کام سرانجام دیں۔اس پر انہیں خاموش ہونا پڑا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بے مثال نمونہ غرض اسلام کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے ہر ضرورت کے متعلق احکام نازل کئے ہیں اگر اسلام نے اس قسم کے احکام نہ دیئے ہوتے تو ہمیں دشمن کے سامنے شرمندہ ہونا پڑتا مگر اب ہمارا سر اونچارہتا ہے اور دشمن کو شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق احادیث میں آتا ہے کہ آپ جب بیمار ہوئے تو با وجود سخت کمزوی کے ایک ہاتھ علی رضی اللہ عنہ کے کندھے پر اور دوسرا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے کندھے پر رکھ کر ایک گھر سے دوسرے گھر میں جاتے اور بعض دفعہ تو ایسی صورت ہوتی تھی کہ آپ کے پاؤں شدت کمزوری کی وجہ سے زمین کے ساتھ گھسٹتے چلے جاتے تھے۔بیویوں نے جب یہ حالت دیکھی تو اُن سب نے مشورہ کیا کہ ایسی حالت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک گھر سے دوسرے گھر میں جانا مناسب نہیں۔آپ کو کسی ایک ہی بیوی کے گھر میں ٹھہرنا چاہئے چنانچہ سب نے متفقہ طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں درخواست کی کہ يَا رَسُولَ اللہ ! جب تک آپ اچھے نہیں ہو جاتے آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ٹھہریں وہ آپ کی سب سے زیادہ خدمت کر سکتی ہیں چنانچہ آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں رہے اور وہیں آپ نے وفات پائی۔مسلمانوں کے تحفظ اور ان کی بقاء کا صحیح طریق غرض اسلام کے احکام پر عمل کرنا ایک بہت بڑا مجاہدہ ہے۔اسلام یہ نہیں کہتا کہ تم بغیر کسی حقیقی ضرورت کے ایک سے زیادہ شادیاں کرو۔وہ ضرورتِ حقہ کے ساتھ اس کی اجازت کو مشروط قرار دیتا ہے اور جب ضرورت حقہ پیدا ہو جائے تو پھر ایک سے زیادہ شادیوں پر اعتراض کرنا درست نہیں۔جب بہار میں مسلمانوں کا قتلِ عام ہوا تو وہاں کے کچھ لوگ قادیان آئے اور انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ اب ہمارے بچاؤ کا کیا طریق ہے؟ میں نے کہا قرآن کریم نے دو علاج بتائے تھے مگر وہ دونوں تم نے چھوڑ دیئے ہیں۔قرآن کریم نے کہا تھا کہ تبلیغ کر و مگر تم نے تبلیغ ترک کر دی اگر سارے مسلمان تبلیغ پر زور دیتے تو آج انہیں ایک ہندو بھی ہندوستان میں نظر نہ آتا۔دوسرا علاج اسلام نے یہ بتایا تھا کہ تم چار چار شادیاں کرو تم ایک ہی نسل میں آٹھ گنا ہو جاؤ گے دوسری نسل میں سولہ گنا ہو