سیر روحانی — Page 362
۳۶۲ پہلے اسے بیوی کیوں بنایا؟ لیکن اس کو بھی جانے دو سوال یہ ہے کہ آیا بہن سے شادی تمہارے نزدیک جائز ہے؟ وہ کہنے لگی آپ تو گالیاں دیتے ہیں۔میں نے کہا اسی ایرانی بہن سے پوچھو اس نے پہلے تو بڑا زور لگایا کہ کسی طرح وہ اس بحث میں نہ پڑے اور بار بار کہے کہ میرا اس سے کیا تعلق ہے میں تو یونہی آگئی تھی لیکن آخر میرے اصرار پر اسے ماننا ہی پڑا کہ واقع میں بہاء اللہ کے ہاں اس سے اولا د بھی ہوئی ہے۔قیامت تک قائم رہنے والا لائحہ عمل غرض کہنے کو تو لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہم کس طرح مانیں کہ قرآن کریم منسوخ نہیں ہو سکتا جب کہ پہلی کتا بیں ہمیشہ سے منسوخ ہوتی چلی آئی ہیں لیکن وہ کوئی ایسی بات بھی نہیں بتا سکتے جو دنیا کے لئے قابل عمل ہو اور قرآن کریم میں موجود نہ ہو یا قرآن کریم نے کوئی حکم دیا ہو اور اس پر عمل نہ ہو سکتا ہو۔تیرہ سو سال ہو چکے دُنیا اس کے کسی حکم کو قابل تبدیل قرار نہیں دے سکی اور آئندہ کے متعلق بھی ہم اسی پر قیاس کر کے کہہ سکتے ہیں کہ وہ قیامت تک کے لئے ایک زندہ اور قائم رہنے والا لائحہ عمل ہے کیونکہ تیرہ سو سال کے گزرنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ماً مور آیا اُس نے دنیا میں پھر یہ اعلان کر دیا کہ یہ کتاب قیامت تک قائم رہنے والی ہے اور اس کا قانون ایک اہل صداقت ہے دنیا ہزاروں تغیرات میں سے گزرتی چلی جائے اس کا کوئی قانون بدل نہیں سکتا ، اس کی کو ئی تعلیم تبدیل نہیں کی جاسکتی۔فطرت انسانی سے مطابقت رکھنے والی تعلیم پھر فرماتا ہے مُتَشَابِهَا اِس کامل کتاب کی ایک یہ بھی خوبی ہے کہ یہ متشابہ ہے۔متشابہ کے دو معنے ہیں جن میں سے ایک معنی یہ ہیں کہ یہ فطرت کے متشابہ ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ قرآن کریم جو تمہارے ہاتھوں میں ہے یہ فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ ایک کتاب مکنون میں ہے یعنی اس کا ایک ورق تو یہ لکھی ہوئی کتاب ہے اور اس کا دوسرا ورق ہر انسان کی فطرت پر لکھا ہوا ہے۔گویا دو قرآن ہیں ایک قرآن فطرت انسانی میں ہے اور ایک قرآن اس کتاب میں ہے۔کوئی شخص ایسی چیز نہیں پیش کر سکتا جو قرآن کریم میں تو ہو مگر اس کا فطرتِ صحیحہ انکار کرتی ہو اور کوئی بات فطرت صحیحہ میں ایسی نہیں ہو سکتی جو قرآن کریم میں موجود نہ ہو۔یہ دلیل ہے اس بات کی کہ قرآن کریم قیامت تک قائم رہنے والی کتاب ہے کیونکہ جب یہ فطرت کے مطابق ہے تو جس طرح فطرت نہیں بدل سکتی اسی طرح قرآن کریم