سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 900

سیر روحانی — Page 359

۳۵۹ فرماتا ہے ہم ایک نیا آئین جاری کرتے ہیں (جیسے انگریز آئے تو انہوں نے تعزیرات ہند کا نفاذ کیا ) ہم ایک نیا گورنر جنرل قیامت تک کے لئے مقرر کرتے ہیں اور اس کے ساتھ دنیا کی ہدایت اور اس کی راہنمائی کے لئے ایک قانون بھی نازل کرتے ہیں مگر تمہارے قانونوں اور اس قانون میں بہت بڑا فرق ہے۔تمہارے قانون کی فرمانبرداری لوگ ڈر سے کرتے ہیں وہ اس لئے کرتے ہیں کہ اگر انہوں نے بغاوت کی تو پولیس انہیں گرفتار کر لے گی ورنہ ان قوانین کی تائید کرنے والے بھی بعض دفعہ اپنے دلوں میں سمجھتے ہیں کہ یہ قوانین غلط ہیں اور جب انہیں اختیار ملتا ہے تو وہ ان کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں مگر ہمارا قانون اپنی ذات میں ایسی خوبیاں رکھتا ہے کہ جس سے کوئی سوچنے والا انسان انکار نہیں کرسکتا۔احسن الحديث نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيثِ ہم ایک قانون جاری کر رہے ہیں مگر وہ کوئی جبری قانون نہیں وہ محض اپنی بادشاہت منوانے کے لئے نہیں بلکہ بہتر سے بہتر بات جو کہی جاسکتی ہے خواہ دینی رنگ میں یا دنیوی رنگ میں ، خواہ عقل سے خواہ نقل سے، خواہ روایت سے خواہ درایت سے ، خواہ چھوٹوں کے لئے خواہ بڑوں کے لئے ، خواہ مردوں کے لئے ، خواہ عورتوں کے لئے ، ان تمام بہترین باتوں کو اِس قانون میں جمع کر دیا گیا ہے اور اب قیامت تک یہ قانون منسوخ نہیں ہو سکتا۔دُنیوی حکومتیں بعض دفعہ بڑی سوچ بچار کے بعد قانون بناتی ہیں مگر تھوڑے عرصہ کے بعد ہی انہیں اپنا قانون اپنے ہاتھوں سے منسوخ کرنا پڑتا ہے۔امریکہ نے بڑا زور لگایا کہ وہ کسی طرح شراب کے استعمال کو روک دے اور اُس نے اِس پر قانونی پابندیاں بھی لگائیں مگر تھوڑے عرصہ کے بعد ہی امریکہ کو پھر شراب نوشی کی اجازت دینی پڑی اور شراب کی ممانعت کا قانون اسے منسوخ کرنا پڑا۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم جس قانون کے نفاذ کا اعلان کر رہے ہیں وہ اَحْسَنَ الْحَدِيث پر مشتمل ہے ہر بہتر سے بہتر بات اس میں موجود ہے اور وہ انتہائی طور پر پاک اور بے لوث قانون ہے جس میں بنی نوع انسان کی تمام ضرورتوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔وہ ایسا قانون نہیں جو آج سے سو یا ہزار سال کے بعد منسوخ ہو سکے یا جس میں رد و بدل کی گنجائش نکل سکے۔ایک مکمل قانون اس کے بعد وہ اور زیادہ تشریح کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ قانون کیا ہے؟ فرماتا ہے کتابا وہ قانون ایک مکمل کتاب ہے۔جب بادشاہ نے دتی میں اعلان کے لئے دربار منعقد کیا تو اس نے تعزیرات ہند کا اعلان نہیں کیا ، اس نے اپنے تمام قوانین