سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 900

سیر روحانی — Page 358

۳۵۸ نے اسلام کے دوبارہ عروج کی یہ بشارت دی اُس وقت وہ قوم جس میں سے اس عظیم الشان انسان نے کھڑا ہونا تھا کا فرتھی، وہ بے دین اور لامذہب تھی وہ جانتی تک نہ تھی کہ اسلام کس چیز کا نام ہے مگر صدیوں بعد چین اور تبت اور ترکستان کے پہاڑوں سے یہ قوم اُٹھتی ہے اور دیوانہ وار تمام پہاڑوں اور دریاؤں اور صحراؤں کو عبور کرتے ہوئے اسلامی حکومت کو تباہ کر دیتی ہے۔بغداد جو اسلام کا ایک عظیم الشان مرکز تھا اسپر یہ قوم حملہ آور ہوتی ہے اور اٹھارہ لاکھ مسلمانوں کو نہایت بیدردی کے ساتھ قتل کر دیتی ہے۔مگر ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرتا کہ وہی ہلا کو جس نے بغداد میں مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا اس کی نسل میں سے ایک مغل شہزادہ مسلمان ہو جاتا ہے اور وہی قوم جس کی تلوار نے مسلمانوں کو مٹایا تھا خود اسلام کی تلوار کا شکار بن کر رہ جاتی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کی پیشگوئیوں کے عین مطابق تیرہ سو سال بعد ایک مغل اُٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اسلام کو دوبارہ قائم کرنے کے لئے کھڑا کیا ہے اور میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا میں قائم کر کے رہونگا۔یہ کتنا عظیم الشان نشان ہے اور کتنے عظیم الشان طریق پر اللہ تعالیٰ نے اپنے اس وعدے کا ایفاء کیا جو اُس نے اپنے دربار میں کیا تھا کیا دنیا کا کوئی دیوانِ عام اس کی مثال پیش کر سکتا ہے۔دربار عام کا ایک اور مقصد دربار عام کا ایک مقصد جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے بادشاہ کے خاص قوانین کا اعلان کرنا ہوتا ہے۔دلی میں شاہی دربار منعقد ہوا تو اس کی غرض یہ تھی کہ بادشاہ بنگال کی تقسیم کی منسوخی کا اعلان کرے مگر یہ غرض کتنی چھوٹی اور کتنی حقیر تھی اور پھر کتنی عجیب بات ہے کہ وہی تقسیم جو 191 ء میں منسوخ کی گئی تھی چھتیں سال کے بعد دوبارہ ظہور میں آگئی۔اگر اُس وقت جارج پنجم کو یہ پتہ لگ جاتا کہ چھتیس سال کے بعد بنگال کی پھر تقسیم ہو جائے گی اور اس وقت دو صوبے ہی نہیں بلکہ دو الگ الگ حکومتیں بن جائیں گی تو شاید اُسے یہ اعلان کرتے ہوئے ہنسی آ جاتی اور وہ سوچتا کہ میں کیا حماقت کر رہا ہوں۔قرآنی آئین کا اعلان اور اس کی اہم خصوصیات یہاں بھی ایک قانون کا اعلان ہوتا ہے مگر وہ قانون کس قسم کا ہے فرماتا ہے اللهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ ذَلِكَ هُدَى اللهِ يَهْدِى بِهِ مَنْ يَّشَاءُ وَ مَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَالَهُ مِنْ هَادٍ ك