سیر روحانی — Page 14
۱۴ اور آدم نے کہا کہ اب یہ میری ہڈیوں میں سے ہڈی اور میرے گوشت میں سے گوشت ہے اس سبب سے وہ ناری کہلا دے گی کیونکہ وہ نر سے نکالی گئی ھے یہ تو رات کا نظریہ ہے جو اس نے پیدائش عالم کے متعلق دنیا کے سامنے پیش کیا۔ڈارون کی تھیوری انسانی پیدائش کے متعلق انیسویں صدی عیسوی میں جب اس مسئلہ پر زیادہ غور کیا گیا اور علومِ جدیدہ کی کے ذریعہ نئ نئی تحقیقا تیں ہوئیں تو سب سے پہلے ایک انگریز نے جس کا نام ڈارون تھا انسانی پیدائش کے متعلق ایک نئی تھیوری پیش کی۔اُس کی تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ : - (۱) انسان ارتقائی قانون کے مطابق بنا ہے یکدم اپنی موجودہ حالت کو نہیں پہنچا اور یہ خیال جو بائبل میں پیش کیا گیا ہے کہ یکدم اللہ تعالیٰ نے انسان کی صورت میں ایک شخص کو بنا کر کھڑا کر دیا یہ درست نہیں بلکہ آہستہ آہستہ لاکھوں بلکہ کروڑوں سالوں میں انسان تیار ہوا ہے۔(۲) دوسرے اُس نے یہ مسئلہ نکالا کہ انسان نے جو ترقی کی ہے یہ جانوروں سے کی ہے پہلے دنیا میں چھوٹے جانور بنے ، پھر اس سے بڑے جانور بنے ، پھر اس سے بڑے جانور بنے اور پھر ان جانوروں میں سے کسی جانور سے ترقی کر کے انسان بنا۔مگر جس جانور سے ترقی کر کے انسان بنا ہے وہ اب نہیں ملتا کیونکہ یہ کڑی غائب ہے ہاں اتنا پتہ چلتا ہے کہ اسی جانور کی ایک اعلی قسم بندر ہے۔گویا ڈارون نے دوسرا نظریہ یہ پیش کیا کہ انسان گوارتقائی قانون کے مطابق بنا ہے مگر اس کا یہ ارتقاء بندروں کی قسم کے ایک جانور سے ہوا ہے جس کی آخری کڑی اب مفقود ہے جس میں سے بعض خاص قسم کے بندر اور انسان نکلے۔پہلے امر کی دلیل کہ انسان یکدم اپنی موجودہ حالت کو نہیں پہنچا بلکہ ہزاروں لاکھوں سالوں میں تیار ہو ا ہے وہ یہ دیتا ہے کہ مختلف زمانوں کے انسانوں کی جو کھو پڑیاں اور جسم وغیرہ ملے ہیں ان کے دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کھوپڑیوں اور جسموں کا آپس میں بہت بڑا فرق ہے پس یہ خیال کرنا کہ آج سے لاکھوں سال پہلے بھی انسان اسی طرح تھا جس طرح آج ہے غلط ہے اگر یہ بات صحیح ہوتی تو جسموں ، ہڈیوں اور کھوپڑیوں وغیرہ میں کوئی فرق نہ ہوتا ، مگر انسانی جسم کی جو بہت پرانی ہڈیاں نکلی ہیں ان ہڈیوں کے دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان اور موجودہ انسانی جسم کی ہڈیوں میں بہت بڑا فرق ہے۔اسی طرح موجودہ انسانی دماغ اور پرانے انسانی دماغ میں بھی بہت بڑا فرق نظر آتا ہے پس مختلف زمانوں کے انسانوں کی