سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 900

سیر روحانی — Page 317

۳۱۷ سمجھا ہو اور خدا تعالیٰ نے نہ چلایا ہو۔یہی مضمون اللہ تعالیٰ نے فَكَانَ قَابَ قَوسَيْنِ أَوْ أَدنى میں بیان فرمایا ہے کہ دونوں کی کمانیں ایک ہو گئیں اور دونوں کے تیر ایک ہی نشانہ پر پڑنے لگے غرض مَا تَشَاءُ وُنَ إِلَّا اَنْ يَّشَاءَ اللهُ اور مَارَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمی کے ماتحت دونوں ایک مینار پر جمع ہو گئے انسانیت بھی بلند مینار پر جا کھڑی ہوئی اور اُلوہیت بھی انسان کی ملاقات کے لئے بے تاب ہو کر آسمان سے اتر آئی۔صعود ونزول کا پُر کیف نظارہ بے شک فرعون نے بھی ایک مینار بنایا تھا مگر اسے اس مینار پر خدا تعالیٰ نظر نہ آیا کیونکہ وہ جھوٹا تھا اُسے نظر آیا تو سمندر کی پاتال میں۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچے اور راستباز انسان تھے آپ کے دل میں اپنے خدا کا سچا عشق تھا اور خدا تعالیٰ کے دل میں مقام محمدیت کی بے انتہاء محبت تھی پس وہ دونوں بے قرار ہو کر ایک دوسرے کی طرف دوڑے جیسے کسی شاعر نے کہا ہے :- وصل کا مزہ تب ہے کہ دونوں ہوں بے قرار دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خدا نے ملنے کے لئے اوپر کی طرف صعود کیا اور خدا نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کے لئے نیچے کی طرف نزول کیا اور اس کے نتیجہ میں دونوں کی قوسیں ایک بن گئیں اور دونوں کے تیر ایک نشانہ پر پڑنے لگے۔فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى مَا كَذَبَ الفُؤَادُ مَارَاى تب تین خوبیوں والا کلام اللہ تعالیٰ کا کلام اس مینار پر نازل ہو اجس میں یہ تین خوبیاں تھیں۔اول اُس نے الفاظ میں کلام کیا آنکھوں سے نظارہ دیکھا سوم دل سے اُسے قبول کیا اور اس پر ایمان لایا۔مخالفین اسلام کے شکوک کا ازالہ پھر فرماتا ہے اَفَتُمْرُونَهُ عَلَى مَايَرَى۔وَلَقَدْرَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنتَهى کیا تم نے اس کی بات پر شک کرتے ہو کہ : - (1) شاید فلسفیانہ خیالات کی رو میں بہہ گیا ہے۔(۲) شاید شیطان نے اس پر کلام نازل کیا ہے۔