سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 900

سیر روحانی — Page 316

سے اتنا دکھ نہ پہنچتا۔۲۹ ۳۱۶ حضرت خالد بن ولید کے ایک فعل سے اظہار براءت اسی طرح ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد حضرت خالد بن ولید کو بنو جذیمہ کی طرف بھیجا اس زمانہ میں کفار عام طور پر مسلمانوں کو کی صابی کہا کرتے تھے جیسے آجکل ہمیں مرزائی یا قادیانی کہا جاتا ہے یہ دراصل جہلاء کی ایک غلطی ہے جس میں بعض لکھے پڑھے بھی شریک ہو جاتے ہیں۔اگر کسی شخص کا نام اس کے ماں باپ نے عبدالرحمن رکھا ہے تو اسے عبدالشیطان کہنے سے نہ وہ عبدالشیطان بن جائے گا اور نہ عبدالشیطان کہنا کوئی شرافت ہو گی۔اسی طرح صحیح طریقہ تو یہی ہے کہ اگر کوئی اپنے آپ کو حنفی کہتا ہے تو اُسے حنفی کہو، شیعہ کہتا ہے تو شیعہ کہو، سنی کہتا ہے تو سنی کہو ، مگر جس طرح لوگ ہمیں مرزائی یا قادیانی کہتے ہیں یا مشرقی پنجاب میں سکھ ہماری جماعت کے ہر شخص کو مولوی کہتے تھے گو وہ ایک لفظ بھی عربی کا نہ جانتا ہو اسی طرح اُس زمانہ میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کو صابی کہا جاتا تھا اور چونکہ عوام الناس میں یہی نام رائج تھا اس لئے جب خالد بن ولید نے انہیں دعوت اسلام دی تو انہوں نے بجائے یہ کہنے کے کہ ہم اسلام قبول کرتے ہیں کہہ دیا کہ صبانا، صبانا ہم صابی ہوتے ہیں ہم صابی ہوتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید نے ان الفاظ کی کوئی پرواہ نہ کی اور اُن میں سے بعض کو قتل کر دیا اور بعض کو قیدی بنا لیا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا دیئے اور فرمایا : اللَّهُمَّ إِنِّى أَبْرَهُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ اے خدا میں اُس فعل سے اپنی نفرت اور بیزاری کا اظہار کرتا ہوں جس کا ارتکاب خالد نے کیا ہے اور آپ نے یہ فقرہ دو دفعہ دہرایا۔۳۰ ان مثالوں سے پتہ لگتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آسمانی اور زمینی تیر ایک نشانہ پر نے کبھی کسی غیر مُجرم پر تیر نہیں چلایا جہاں خدا تعالیٰ کا تیر چلا وہیں آپ کا بھی تیر چلا اور جہاں آپ کا تیر چلا وہیں خدا تعالیٰ نے بھی تیر چلایا، اسی طرح آپ کی زندگی میں کوئی ایک بھی مثال ایسی نظر نہیں آتی ، جہاں آپ نے تیر چلانا مناسب سمجھا ہوا اور خدا تعالیٰ نے تیر نہ چلایا ہو، جہاں آپ کی ساری زندگی میں ایک مثال بھی ایسی نہیں پائی جاتی کہ خدا تعالیٰ نے تیر نہ چلایا ہو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چلا دیا ہو، وہاں ایسی بھی کوئی مثال نظر نہیں آتی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر چلانا مناسب