سیر روحانی — Page 310
۳۱۰ مُہر تھی اُس نے خط اپنے ہاتھ میں لیتے ہی درباریوں سے کہا وہ بات ٹھیک معلوم ہوتی ہے جو اس عرب نے کہی تھی۔اس نے خط کھولا تو وہ کسری کے بیٹے کا تھا اور اس میں یہ لکھا تھا کہ ہمارا باپ نہایت ظالم اور سفاک انسان تھا اور اس نے تمام ملک میں ایک تباہی مچا رکھی تھی ہم نے فلاں رات اسے مار دیا ہے اور اب ہم خود اس کی جگہ تخت پر بیٹھ گئے ہیں اب تمہارا فرض ہے کہ تم اپنی مملکت کے لوگوں سے ہماری اطاعت کا اقرار لو، اور ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ انہی سفاکیوں میں سے جو ہمارے باپ نے کیں ایک یہ بھی سفا کی تھی کہ اس نے عرب کے ایک شخص کے متعلق لکھا تھا کہ اسے گرفتار کر کے ہمارے پاس بھجوا دیا جائے ہم اس حکم کو منسوخ کرتے ہیں۔یہی حقیقت عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوی میں بیان کی گئی ہے کہ ایک طاقتور ہستی اس کی نگران ہوگی اور اس کو چھیڑ نا کوئی آسان کام نہیں ہو گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہت سے مواقع ایسے آئے ہیں جنہوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آپ کو چھیڑ نا خدا تعالیٰ کو چھیڑ نا تھا۔اصلاح خلق کے لئے ایک کامل انسان کی پیدائش پھر فرماتا ہے ذُو مِرَّةٍ وہ طاقتور ہی نہیں بلکہ مِرَّة والا ہے ذُو مِرَّةٍ کے اصل معنے پیدائش کی طاقت بلکہ بہت بڑی طاقت رکھنے والے کے ہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ بار بار پیدائش کی طاقت کا ظہور اس سے ہوتا رہتا ہے گویا بتا یا کہ وہ شَدِيدُ الْقُوی ہی نہیں بلکہ اس میں اعلیٰ درجہ کی کامل پیدائش کی طاقت بھی موجود ہے فَاسْتَوی پھر اس طاقتور خدا اور اعلیٰ سے اعلیٰ مخلوق پیدا کرنے والے خدا نے ارادہ کیا کہ میں دنیا میں اپنی مخلوق پر ظاہر ہوں وَهُوَ بِالا فُقِ الأغلى اور وہ خدا بہت اونچا تھا اور بنی نوع انسان زمین پر رینگ رہے تھے اور ہرقسم کی کمزوریاں اور گناہ ان میں پائے جاتے تھے بائبل میں بھی لکھا ہے۔اور خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی اور اس کے دل کے تصور اور خیال سدا بُرے ہی ہوتے ہیں تب خداوند زمین پر انسان کو پیدا کرنے سے ملول ہوا اور دل میں غم کیا اور خداوند نے کہا کہ میں انسان کو جسے میں نے پیدا کیا روئے زمین پر سے مٹا ڈالوں گا انسان سے لے کر حیوان اور رینگنے والے جاندار اور ہوا کے پرندوں تک کیونکہ میں ان کے بنانے سے ملول ہوں“۔۲۶ غرض خدا آسمان پر بیٹھا ہوا تھا اس نے جب بنی نوع انسان کی خرابی دیکھی تو چاہا کہ میں ایک نئی مخلوق پیدا کروں کیونکہ وہ ذُو مِرہ تھا وہ چاہتا تھا کہ ایک کامل اور اکمل انسان کو