سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 900

سیر روحانی — Page 309

گورنر کو خط لکھا کہ عرب میں جو نیا مدعی نبوت پیدا ہوا ہے تم اُسے گرفتار کر کے میرے پاس بھیج دو۔یمن کے گورنر نے دو آدمی بھیجوائے۔اُس وقت ایران کی طاقت ویسی ہی تھی جیسے اس وقت امریکہ اور روس کی ہے اور عرب والوں کی حالت ایسی تھی جیسے سرحدی قبائل کی ہے۔گورنر یمن نے اپنے سپاہیوں کو بھیجتے ہوئے ان کے ذریعہ آپ کو یہ پیغام بھجوایا کہ مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ آپ کا قصور کیا ہے لیکن بہتر یہی ہے کہ آپ چلے آئیں میں آپ کی سفارش کر کے شاہ ایران کے پاس بھجوا دونگا کہ اگر اس شخص کا کوئی قصور بھی ہے تو اسے معاف کر دیا جائے۔وہ دونوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ہمیں گورنر یمن نے آپ کو اپنے ساتھ لانے کے لئے بھیجا ہے اور یہ یہ پیغام بھی دیا ہے۔اگر آپ نے انکار کیا تو بادشاہ کی فوجیں عرب پر دھاوا بول دیں گی اور تمام ملک ایک مصیبت میں مبتلاء ہو جائے گا اس لئے مناسب یہی ہے کہ آپ ہمارے ساتھ تشریف لے چلیں ، گورنر یمن نے وعدہ کیا ہے کہ وہ آپ کی سفارش کر دیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس کا جواب تمہیں پھر دونگا۔آپ نے اللہ تعالیٰ سے دُعا کرنی شروع کی کہ وہ اس معاملہ میں آپ کی مدد فرمائے دوسرے دن جب وہ ملے تو آپ نے فرمایا کہ ایک دن اور ٹھہر جاؤ۔جب تیسرا دن ہوا تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے کہا آج ہمیں آئے ہوئے تین دن ہو گئے ہیں آپ ساتھ چلئے ایسا نہ ہو کہ یہ معاملہ بگڑ جائے اور تمام عرب پر مصیبت آ جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو! اپنے گورنر سے جا کر کہد و کہ میرے خدا نے آج رات تمہارے خدا وند کو مار دیا ہے۔ایرانی لوگ اپنے بادشاہ کو خداوند کہا کرتے تھے انہوں نے کہا آپ یہ کیا فرماتے ہیں؟ اپنے آپ پر اور اپنی قوم پر رحم کیجئے اور ہمارے ساتھ چلئے۔آپ نے فرمایا میں نے تمہیں جواب تو دے دیا ہے جاؤ اور گورنر یمن کو یہی بات کہہ دو۔وہ واپس آگئے اور انہوں نے یمن کے گورنر سے یہ بات کہہ دی۔اُس نے سن کر کہا کہ یا تو یہ شخص پاگل ہے اور یا واقع میں خدا تعالیٰ کا نبی ہے ہم چند دن انتظار کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ آیا اس کی بات سچی ثابت ہوتی ہے یا نہیں۔اللہ تعالی کا عظیم الشان نشان تھوڑے دنوں کے بعد یمن کی بندرگاہ پر ایران کا ایک جہاز لنگر انداز ہوا اور اس میں سے ایک سفیر اترا جو یمن کے گورنر کے نام ایک شاہی خط لایا۔یمن کے گورنر نے اسے دیکھا تو اس پر ایک نئے بادشاہ کی