سیر روحانی — Page 301
صحابہ میں سے ہو گا اور وہ بھی آپ کے شاگردوں اور غلاموں میں شامل ہوگا۔اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم کے تمام اہم امور کا فیصلہ آسمان پر ہوتا ہے مطابق تمام بڑے اور اہم کام آسمان سے ہی ظاہر ہوتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرماتے ہیں کہ جب بھی کوئی بڑا تغیر رونما ہونے والا ہوتا ہے تو اس کے متعلق پہلا فیصلہ آسمان پر ہوتا ہے اور اس کے بعد اس کا زمین پر ظہور ہوتا ہے۔حدیثوں میں صاف طور پر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب کوئی بڑا کام کرنا ہوتا ہے تو پہلے وہ اپنے مقرب فرشتوں کو بتاتا ہے کہ میرا یہ ارادہ ہے۔وہ فرشتے اپنے سے نچلے طبقہ کے فرشتوں کو اطلاع دیتے ہیں وہ اپنے سے نچلے طبقہ کے فرشتوں کو اطلاع دیتے ہیں یہاں تک کہ ہوتے ہوتے اُس کا دنیا میں ظہور شروع ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے جس بندہ کے متعلق چاہتا ہے اُس کی مقبولیت کو دنیا میں پھیلا دیتا ہے۔غرض جتنے بڑے کام ہوتے ہیں سب آسمان پر ہوتے ہیں زمین پر نہیں ہوتے۔صرف زمین پر تغیرات ہونے کا عقیدہ ان لوگوں کا ہے جو د ہر یہ ہیں ورنہ خدا تعالیٰ کے ماننے والے تو جانتے ہیں کہ ہر بات کا فیصلہ پہلے آسمان پر ہوتا ہے اور پھر اس کا زمین پر ظہور ہوتا ہے گویا اگر ہم تمثیلی زبان اختیار کریں اور دنیا کو ایک تھیٹر کا ہال سمجھ لیں تو ڈرامہ آسمان پر لکھا جاتا ہے اور کھیل دنیا کے پردہ پر کھیلا جاتا ہے جب تک آسمان پر کوئی ڈرامہ نہیں لکھا جا تا زمین پر وہ کھیل نہیں کھیلی جاتی۔میں سمجھتا ہوں اس محمد رسول اللہ اور مسیح موعود بھی آسمان سے ہی نازل ہوئے ہیں بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے مسلمانوں کو غلطی لگی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آنے والا مسیح آسمان سے اُترے گا اور قرآن کریم نے فرمایا تھا کہ وَالنَّجْمِ اِذَاهَوای ایک ستارہ آسمان سے اُترے گا اور ظلمت کا قلع قمع کر دے گا۔اور یہ بالکل سچی بات ہے ہم بھی اپنی زبان میں کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس زمانہ میں جو اعتراضات ہوئے اُن کو دُور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے آسمان سے مسیح موعود کو بھیجا، کیونکہ وہ شخص جو دنیا میں اپنے ماں باپ کے گھر پیدا ہو اوہ مرزا غلام احمد قادیانی تھا مسیح موعود نہیں تھا جب وہ چالیس سال کی عمر کو پہنچا تو خدا تعالیٰ نے اسے مسیح موعود بنا دیا اور تب وہ گویا آسمان سے نازل ہوا۔اسی طرح عرب کی سرزمین میں آمنہ کے گھر میں پیدا ہونے والا محمد تھا لیکن محمد رسول اللہ آسمان سے ہی آیا چنانچہ