سیر روحانی — Page 287
۲۸۷ مختلف ملکوں اور گوشوں میں پھر کر دیکھ لو، دارا اور اشوکا کو کوئی اگر گالیاں بھی دے تو دنیا کی کوئی قوم اسے مطعون نہیں کر سکتی۔کوئی مذہبی یا سیاسی اقتدار ان لوگوں کو حاصل نہیں مگر آج بھی آدم اور موسی" پر ایمان لانے والے یہودی اور عیسائی دنیا میں موجود ہیں۔بے شک جہاں تک قابل عمل شریعت کا سوال ہے ان انبیاء کی تعلیم ختم ہو چکی ہے ،لیکن جہاں تک اُن کی عزت اور ان کے مقام کا سوال ہے وہ اب بھی قائم ہے اور اب بھی ان کا نام دنیا میں روشن ہے۔اب بھی ہر شخص مجبور ہے کہ ان کا نام عزت اور احترام کے ساتھ لے ، پس وہ ختم نہیں ہوئے بلکہ قیامت تک بھی ختم نہیں ہو سکتے۔مینار بنانے والوں کے نام تک محفوظ نہیں پھر میناروں کے ذریعہ نام روشن ہونے کی غرض بھی پوری نہ ہوئی بلکہ کسی کا نام روشن ہونا تو الگ رہا ہمیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ مینار بنائے کس نے تھے؟ ہر مینار کے متعلق یہ بحث کی ہے کہ اسے کس نے بنایا تھا۔قطب صاحب کی لاٹ بھی زیر بحث ہے اور تغلق کی لوہے کی لاٹ بھی زیر بحث ہے اور لوگ یہ سوچتے ہیں کہ یہ ہے اصل میں کس کی؟ اشو کا کی کہ تغلق کی؟ کسی ہندو بادشاہ کی یا ایبک کی؟ قطب صاحب کی لاٹ کے متعلق ہی مسلمان کہتے ہیں کہ قطب الدین ایبک نے اسے بنایا تھا اور ہندو کہتا ہے کہ یہ فلاں راجہ کی بنائی ہوئی ہے۔فیروز تغلق کی لاٹ کے پاس کھڑے ہو کر ایک مسلمان کہتا ہے یہ فیروز تغلق کی لاٹ ہے اور ایک ہندو کہتا ہے کہ یہ اشوکا کی لاٹ ہے مگر جن روحانی میناروں کا ہم ذکر کرتے ہیں اُن کے ناموں کے متعلق کسی قسم کا اشتباہ نہیں پایا جاتا۔غرض دنیوی مینار جن اغراض کے لئے تعمیر کئے جاتے ہیں وہ اغراض ان کے ذریعہ کبھی پوری نہیں ہوئیں۔اس طرح جو فوائد ان کے بتائے جاتے ہیں وہ بھی بنی نوع انسان کو بھی حاصل نہیں ہوئے۔قرآن کریم سے ایک عظیم الشان روحانی مینار کی خبر لیکن اس کے مقابل پر قرآن کریم نے ایک ایسے مینار کی خبر دی ہے جو روحانی طور پر تعمیر ہوا ، جس پر چڑھ کر آسمان کی سب سے بڑی ہستی کا بھی پتہ چلا اور وہ زمین پر بھی اتری۔مصریوں کا تو محض خیال تھا کہ روحیں مینار کے ذریعہ نیچے اترتی ہیں اس کا کوئی عملی ثبوت کے