سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 900

سیر روحانی — Page 272

۲۷۲ ساری بیٹریاں اور ساری جہتھکڑیاں کاٹ ڈالتا ہے۔اور پھر مجھے مینا بازار کی چیزیں ہی نہیں دیتا ہے بلکہ سارا مینا بازار میرے حوالے کر دیا جاتا ہے اور اس کی تمام چیزوں کا مجھے مالک بنا دیا جاتا ہے اور پھر انہی چیزوں کا ہی نہیں بلکہ ساتھ ہی یہ بھی انتظام کیا جاتا ہے کہ اگر کوئی نئی طبعی خواہش پیدا ہوگی تو وہ بھی پوری کی جائے گی۔اور اگر کوئی نئی علمی خواہش پیدا ہو گی تو اُس کو پورا کرنے کے بھی ہم ذمہ دار ہوں گے۔اور پھر مجھے کہا جاتا ہے کہ ان چیزوں کے متعلق تسلی رکھنا ، نہ یہ چیزیں ختم ہوں گی اور نہ تم ختم ہو گے گویا ان سب چیزوں سے فائدہ اُٹھانے کے لئے مجھ پر سے بھی اور ان چیزوں پر سے بھی فنا کا اثر مٹا دیا جائے گا۔جب میں نے یہ نظارہ دیکھا اور روحانی طور پر مجھے ان الہی اسرار کا علم ہوا تو میں اپنے ناقص علم پر جو مجھے آزادی اور غلامی کے متعلق تھا ، سخت شرمندہ ہوا۔اور میں حیران ہو گیا کہ میں کس چیز کو آزادی سمجھتا تھا اور کس چیز کو غلامی قرار دیتا تھا۔جس چیز کو میں آزادی سمجھتا تھا وہ ایک خطر ناک غلامی تھی اور جس چیز کو میں غلامی سمجھتا تھا وہ حقیقی آزادی اور حریت تھی۔میں شرمندہ ہوا اپنے علم پر، میں حیران ہوا اس عظیم الشان حقیقت پر اور فی الواقع اُس وقت سر سے لے کر پاؤں تک میرا تمام جسم کانپ اُٹھا اور میری روح ننگی اور عریاں ہو کر خدا کے سامنے کھڑی ہو گئی اور بے اختیار میں نے کہا اے میرے آقا ! یہ غلامی جو تو پیش کر رہا ہے، اس پر ہزاروں آزادیاں قربان ہیں۔اے آقا! مجھے جلد سے جلد اپنا غلام بنالے، مجھے بھی اور میرے سب عزیزوں اور دوستوں کو بھی۔بلکہ اے خدا! تو ساری دنیا کو ہی اپنا غلام بنالے تا کہ ہم سب اس غلامی کے ذریعہ حقیقی آزادی کا مزہ چکھیں اور حقیقی غلامی سے نجات پائیں۔پس کان منتظر ہیں اُس دن کے جب یہ آواز ہمارے کان سنیں گے کہ یاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ فِى إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً - فَادْ خُلِى فِي عِبَادِي - وَادْخُلِي جَنَّتِی۔اے اپنے رب کے تعلق پر مطمئن ہونے والی جان! آ آ اپنے رب کی طرف آ۔تو اُس سے خوش ہے اور وہ تجھ سے خوش ہے۔آ اور میرے بندوں میں داخل ہو جا اور آمیری جنت میں داخل ہو جا۔اپنی جانیں اور اپنے اموال خدا تعالیٰ کے حضور جلد تر پیش کرو! یہ وہ عظیم الشان نعمت۔ہے جو تمہارا خدا تمہیں دینے کے لئے تیار ہے۔اب تمہارا فرض ہے کہ تم آگے بڑھو اور اس نعمت کو حاصل کرنے کی