سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 900

سیر روحانی — Page 265

۲۶۵ کر سکتے ہیں فرماتا ہے جَاهِدُهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا تلوار کا جہاد اور دوسرے اور جہاد چھوٹے ہیں قرآن کا جہاد ہی ہے جو سب سے بڑا اور عظیم الشان جہاد ہے۔یہ وہ تلوار ہے کہ جو شخص اس پر پڑے گا اُس کا سر کاٹا جائے گا اور جس پر یہ پڑے گی وہ بھی مارا جائے گا یا مسلمانوں کی غلامی اختیار کرنے پر مجبور ہوگا۔اگر تیرہ سو سال میں بھی ساری دنیا میں اسلام نہیں پھیلا تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ یہ تلوار کند تھی بلکہ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں نے اس تلوار سے کام لینا چھوڑ دیا۔آج خدا نے پھر احمدیت کو یہ تلوار دیکر کھڑا کیا ہے اور پھر اپنے دین کو دنیا کے تمام ادیان پر غالب کرنے کا ارادہ کیا ہے مگر نادان اور احمق مسلمان احمدیت پر حملہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ احمدی جہاد کے قائل نہیں۔اُن کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص غلیلے لے کر قلعہ پر حملہ کر رہا ہو، تو یہ دیکھ کر کہ غلیلوں سے قلعہ کب فتح ہوسکتا ہے کچھ اور لوگ توپ خانہ لے کر آ جائیں، مگر غلیلے چلانے والا بجائے اُن کا شکر گزار ہونے کے اُن پر اعتراض کرنا شروع کر دے کہ یہ لوگ غلے کیوں نہیں چلاتے ؟ وہ نادان بھی اپنی نادانی اور حماقت کی وجہ سے قرآن کی طاقت کے قائل نہیں ، ہوش سنبھالنے سے لیکر بڑھے ہونے تک وہ نحو اور صرف پڑھتے رہتے ہیں اور یہی دو علم پڑھ پڑھ کر ان کے دماغ خالی ہو جاتے ہیں۔انہوں نے ساری عمر بھی قرآن کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھا ہوتا اور نہ اس کے مطالب اور معانی پر غور کیا ہوتا ہے۔اب اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل پھر یہ تلوار ہمارے ہاتھوں میں دی ہے اور میرا دعویٰ ہے کہ دنیا میں کوئی سچا مسئلہ اور کوئی حقیقی خوبی ایسی نہیں ، نہ زمین میں نہ آسمان میں جو اس کتاب میں موجود نہ ہو۔اسی طرح کوئی ایسی بات نہیں جس سے دنیا کے دماغ تسلی پا سکتے ہوں مگر وہ بات قرآن کریم میں نہ پائی جاتی ہو۔پھر فرماتا ہے وَهُوَ الَّذِى مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وہ خدا ہی ہے جس نے دوسمندر دُنیا میں ملا دیئے ہیں مرج کے معنے ہوتے ہیں ملا دینے کے پس وَهُوَ الَّذِی مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ کے معنے یہ ہوئے کہ وہ خدا ہی ہے جس نے دو سمندر دنیا میں ملا دیئے ہیں هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ ایک سمندر اپنی خاصیت کے لحاظ سے میٹھا ہے اور اس کا پانی انسان کے لئے تسکین بخش ہے۔وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ مگر دوسرا زخم ڈال دینے والا نمکین ہے۔اور آگ کی طرح گرم وَ جَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرُ زَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُورًا مگر باجود اس کے کہ دونوں سمندر ملا دیئے گئے ہیں۔اس کے درمیان اور اُس کے درمیان ایک فاصلہ پایا جاتا ہے۔