سیر روحانی — Page 5
ہے اور کوئی میراثی ہے۔میں انہی خیالات میں تھا کہ میرے خیالات میرے قابو سے باہر نکل گئے اور میں کہیں کا کہیں جا پہنچا ، سب عجائبات جو سفر میں میں نے دیکھے تھے میری آنکھوں کے سامنے سے گزر گئے ، دہلی کا یہ وسیع نظارہ جو میری آنکھوں کے سامنے تھا میری آنکھوں کے سامنے سے غائب ہو گیا اور آگرہ اور حیدر آباد اور سمندر کے نظارے ایک ایک کر کے سامنے سے گزرنے لگے۔آخر وہ سب ایک اور نظارہ کی طرف اشارہ کر کے خود غائب ہو گئے۔میں اس محویت کے عالم میں کھڑا رہا ، کھڑا رہا اور کھڑا رہا اور میرے ساتھی حیران تھے کہ اس کو کیا ہو گیا ؟ یہاں تک کہ مجھے اپنے پیچھے سے اپنی لڑکی کی آواز آئی کہ ابا جان ! دیر ہوگئی ہے میں اس آواز کو سن کر پھر واپس اسی مادی دنیا میں آ گیا، مگر میرا دل اُس وقت رقت انگیز جذبات سے پر تھا، نہیں وہ خون ہورہا تھا اور خون کے قطرے اس سے ٹپک رہے تھے مگر اس زخم میں ایک لذت بھی تھی اور وہ غم سرور سے ملا ہو ا تھا۔میں نے افسوس سے اس دنیا کو دیکھا اور کہا کہ ”میں نے پالیا۔میں نے پالیا۔جب میں نے کہا ”میں نے پالیا۔میں نے پالیا تو اُس وقت میری وہی کیفیت تھی جس طرح آج سے دو ہزار سال پہلے تکیا کے پاس ایک بانس کے درخت کے نیچے گوتم بدھ کی تھی جب کہ وہ خدا تعالیٰ کا قرب اور اُس کا وصال حاصل کرنے کے لئے بیٹھا اور وہ بیٹھا رہا اور بیٹھا رہا یہاں تک کہ بدھ مذہب کی روایات میں لکھا ہے کہ بانس کا درخت اُس کے نیچے سے نکلا اور اُس کے سر کے پار ہو گیا، مگر محویت کی وجہ سے اس کو اس کا کچھ پتہ نہ چلا۔یہ تو ایک قصہ ہے جو بعد میں لوگوں نے بنالیا۔اصل بات یہ ہے کہ بدھ ایک بانس کے درخت کے نیچے بیٹھا اور وہ دنیا کے را ز کو سوچنے لگا یہاں تک کہ خدا نے اُس پر یہ راز کھول دیا۔تب گوتم بدھ نے یکدم اپنی آنکھیں کھولیں اور کہا ”میں نے پالیا۔میں نے پالیا۔میری کیفیت بھی اُس وقت یہی تھی۔جب میں اس مادی دنیا کی طرف واپس لوٹا تو بے اختیار میں نے کہا ”میں نے پالیا۔میں نے پالیا۔“ اُس وقت میرے پیچھے میری لڑکی امتہ القیوم بیگم چلی آرہی تھی اُس نے کہا ، ابا جان ! آپ نے کیا پا لیا ؟ میں نے کہا، میں نے بہت کچھ پالیا مگر میں اس وقت تم کو نہیں بتا سکتا۔اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو میں جلسہ سالانہ پر بتاؤں گا کہ میں نے کیا پایا؟ اُس وقت تم بھی سُن لینا۔سو آج میں آپ لوگوں کو بتا تا ہوں کہ میں نے وہاں کیا پایا اور وہ کیا تھا جسے میری اندرونی آنکھ نے دیکھا۔میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ جو کچھ میں نے اُس وقت وہاں دیکھا وہ وہی تھا جو میں آج بیان "